پاکستان میں طویل انتظار کے بعد بالآخر 5جی سروس کی راہ ہموار ہونے جا رہی ہے، اور کیا واقعی رمضان سے قبل اس کا اسپیکٹرم آکشن ممکن ہے؟
یہ سوال ایک بار پھر ٹیلی کام اور ٹیکنالوجی کے حلقوں میں زیرِ بحث ہے، کیونکہ حکومت اور ریگولیٹری ادارے حالیہ دنوں میں 5جی آکشن سے متعلق سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرنیٹ سروس کو درپیش مسائل کیا 5 جی اسپیکٹرم سے حل ہو جائیں گے؟
پاکستان میں 5جی متعارف کرانے کی باتیں کوئی نئی نہیں، گزشتہ کئی برسوں سے مختلف حکومتیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارتِ آئی ٹی اس حوالے سے متعدد بار ٹائم لائنز دے چکی ہیں۔
تاہم پالیسی میں تاخیر، اسپیکٹرم کی قیمتوں پر اختلاف، معاشی مشکلات، ڈالر کی بلند شرح اور ٹیلی کام کمپنیوں کے تحفظات کے باعث یہ آکشن بار بار مؤخر ہوتا رہا۔
The Pakistan Telecommunication Authority (PTA), pursuant to the Policy Directive issued by the Government of Pakistan and under the provisions of the Pakistan Telecommunication (Re-Organization) Act, 1996, has issued the Information Memorandum (IM) for the auction of spectrum for… pic.twitter.com/wcQklVj65P
— PTA (@PTAofficialpk) January 9, 2026
اب ایک بار پھر یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ رمضان سے قبل 5جی آکشن کی تیاری آخری مراحل میں ہے، جس نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا اس بار یہ اعلان عملی شکل اختیار کر پائے گا یا ماضی کی طرح ایک اور وعدہ ثابت ہوگا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے رابطہ کرنے پر پی ٹی اے کے ایک اعلی عہدیدار نے وی نیوز کو بتایا کہ 5جی آکشن سے متعلق بنیادی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اسپیکٹرم آکشن کا مکمل ڈیزائن تیار ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں 5 جی کی لانچنگ میں پیشرفت، اہم اعلان کردیا گیا
ان کا کہنا ہے کہ 5جی نیٹ ورک کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے مرحلہ وار اور بآسانی توسیع دی جا سکے، جبکہ کوالٹی آف سروس کے لیے کم از کم معیار بھی واضح طور پر طے کر دیے گئے ہیں۔
ڈی جی لائسنس کے مطابق آکشن سے قبل 5جی کے نیٹ ورک، ٹیکنالوجی، کوالٹی اسٹینڈرڈز اور رول آؤٹ اسٹریٹجی پر تفصیلی کام کیا جا چکا ہے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے بھی اس عمل میں مثبت دلچسپی کا اظہار کیا ہے، چونکہ تمام تیاریاں مکمل ہیں، لہذا 26 فروری کو 5جی آکشن ہو جائے گا۔
JUST IN: Pakistan plans 600 MHz spectrum auction next month to power faster, more reliable internet. pic.twitter.com/9Rezz6brxg
— Mansoor Ahmed Qureshi (@MansurQr) January 5, 2026
واضح رہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا آکشن ہے جس میں تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا، اس آکشن سے حکومت کو کم از کم 630 ملین ڈالرز بغیر ٹیکس ریونیو متوقع ہے۔
آکشن کے بعد آپریٹرز کو ٹیکنالوجی نیوٹرل 15 سالہ لائسنس ملے گا، اور 5ج یرول آؤٹ مرحلہ وار ہوگا جس میں پہلے مرحلے میں کم از کم 50 ایم بی پی ایس ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کی پابندی ہوگی۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق 5جی لانچ کے ساتھ ساتھ 4جی نیٹ ورک کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری لائی جائے گی، آکشن کے بعد آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 4جی نیٹ ورک کی رفتار اور معیار میں کم از کم 4 سے 5 گنا اضافہ کریں۔
مزید پڑھیں: 5G کا انتظار مزید تول پکڑ ے گا، پی ٹی اے نے وجوہات بتادیں
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ چونکہ ملک میں کوالٹی آف سروس ایک سنجیدہ مسئلہ رہا ہے، اس لیے 5جی کے ساتھ 4جی کی بہتری کو بھی ریگولیٹری ترجیح بنایا گیا ہے۔
ان کے مطابق کے مطابق 5جی سروس کا آغاز محدود اور مرحلہ وار بنیادوں پر کیا جائے گا، جیسا کہ دنیا بھر میں کیا جاتا ہے، پہلے مرحلے میں 5جی بڑے شہروں اور منتخب علاقوں میں لانچ کیا جائے گا، جہاں صارفین کے پاس 5جی ڈیوائسز کی دستیابی زیادہ ہے۔
مثال کے طور پر اسلام آباد میں بلیو ایریا اور ایف 10، کراچی میں ڈیفنس اور کلفٹن جبکہ لاہور اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اہم کمرشل علاقوں کو ابتدائی رول آؤٹ میں شامل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: اسپیکٹرم کیا ہے اور پاکستان میں اس پر تنازع کیوں، اس کا انٹرنیٹ اسپیڈ سے کیا تعلق ہے؟
پہلے سال آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے موجودہ نیٹ ورک سائٹس کے کم از کم 10 فیصد پر 5جی سروس فراہم کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ 5جی سروس یکدم پورے ملک میں لانچ نہیں کی جائے گی بلکہ اسے بتدریج بڑھایا جائے گا، تاکہ مارکیٹ میں اس کی طلب، ڈیوائسز کی دستیابی اور صارفین کی استعداد کے مطابق نیٹ ورک کو وسعت دی جا سکے۔
جہاں 5جی سروس دستیاب ہوگی وہاں کم از کم رفتار موجودہ نیٹ ورکس کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا زیادہ ہوگی، جبکہ جن علاقوں میں 5جی دستیاب نہیں ہوگی وہاں صارفین کو 4جی سروس معمول کے مطابق بہتر کوالٹی کے ساتھ ملتی رہے گی۔
مزید پڑھیں: انتظار ختم، پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی ٹائم لائن کا اعلان ہوگیا
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ 5جی نیٹ ورک بیک ورڈ کمپے ٹیبل ہوگا، یعنی اگر کسی صارف کے پاس 5جی فون نہیں ہے تو وہ 5جی ایریا میں بھی 4جی سروس استعمال کر سکے گا، 5جی ایک اضافی ٹیکنالوجی لیئر کے طور پر موجودہ ٹاورز پر نصب کی جائے گی، جس سے موجودہ صارفین کی سروس متاثر نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ 5جی لانچ کا مقصد صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک میں موبائل انٹرنیٹ کے معیار کو بہتر بنانا ہے، اور یہی ہدف حکومت اور پی ٹی اے کی پالیسی کا حصہ ہے۔
اسٹار لنک کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ معاملہ اب تک پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کے پاس ہی ہے، اس مرحلے کے بعد پی ٹی اے کے پاس جب بھی اسٹار لنک لائسنس کے لیے آئے گا تو پی ٹی اے فوری طور پر تمام پروٹوکولز کے مطابق ان کو اجازت دے گا۔ مگر ابھی تک وہ پی ایس اے آر بی سے ہی کلیئر نہیں ہو پائے۔
پاکستان میں 5جی آکشن کی باز گشت کب سنائی دی؟
یاد رہے کہ پاکستان میں 5جی سروس متعارف کرانے پر سنجیدہ گفتگو کا آغاز تقریباً 2019 میں ہوا، جب پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پہلی بار اسپیکٹرم کی دستیابی اور فریم ورک پر ابتدائی مشاورت شروع کی۔ 2020 اور 2021 کے دوران مختلف سرکاری بیانات میں 5جی ٹرائلز اور آکشن کے اعلانات کیے گئے، تاہم عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
2022 میں 5جی پالیسی اور کنسلٹنسی رپورٹس پر کام کیا گیا، جبکہ 2023 اور 2024 میں بھی متعدد بار یہ کہا گیا کہ 5جی آکشن جلد متوقع ہے، مگر ہر بار ٹائم لائن آگے بڑھتی رہی، اس طرح گزشتہ 5 سے 6 برسوں سے 5جی آکشن ایک ایسا وعدہ بن چکا ہے جو ابھی تک ایفا نہیں ہوسکا ہے۔
5 جی آکشن میں تاخیر کی وجوہات؟
ماہرین کے مطابق 5جی آکشن میں تاخیر کی بنیادی وجوہات میں اسپیکٹرم کی زیادہ قیمت، ملکی معاشی دباؤ، روپے کی قدر میں کمی اور سرمایہ کاری کے غیر یقینی حالات شامل ہیں، اس کے علاوہ حکومت اور ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان اسپیکٹرم فیس، ٹیکس اسٹرکچر اور لائسنسنگ شرائط پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ بعض فریکوئنسی بینڈز کے لیے اسپیکٹرم کی دستیابی، ریفارنمنگ کے مسائل اور پالیسی ہم آہنگی کی کمی بھی بڑی رکاوٹ بنی رہی۔














