بھارت اس تجویز پر غور کر رہا ہے کہ اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ اپنے سوفٹ ویئر کا نہ صرف سورس کوڈ شیئر کریں بلکہ سیکیورٹی اقدامات کے ایک بڑے پیکج کے تحت سوفٹ ویئر میں متعدد تبدیلیاں بھی کریں۔
اس مجوزہ اقدام پر ایپل اور سام سنگ جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے پس پردہ شدید مخالفت سامنے آ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھارت میں نوکریاں دینا بند کریں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتباہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق خفیہ سرکاری و صنعتی دستاویزات کے مطابق، ٹیک کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ 83 سیکیورٹی معیارات پر مشتمل یہ پیکج، جس میں حکومت کو بڑی سوفٹ ویئر اپ ڈیٹس سے آگاہ کرنے کی شرط بھی شامل ہے، دنیا میں کہیں نافذ نہیں اور اس سے کمپنیوں کے تجارتی راز افشا ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
India proposes forcing smartphone makers to share source code in security overhaul https://t.co/GcBFmyd5jf pic.twitter.com/oMigB0n1DV
— New York Post (@nypost) January 11, 2026
دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹ بھارت میں آن لائن فراڈ اور ڈیٹا لیکس کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں تقریباً 75 کروڑ موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں۔
آئی ٹی سیکریٹری ایس کرشنن نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ صنعت کے کسی بھی جائز تحفظات کو کھلے دل سے سنا جائے گا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔
مزید پڑھیں: ایمازون کا بھارت میں 2030 تک 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان
وزارت کے ترجمان نے ہفتے کے روز ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مشاورت جاری ہونے کے باعث اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
خبر شائع ہونے کے بعد، اتوار کی شب وزارتِ آئی ٹی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ مشاورت موبائل سیکیورٹی کے لیے ایک مناسب اور مضبوط ضابطہ جاتی فریم ورک تیار کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اور وزارت معمول کے مطابق صنعت سے رابطے میں رہتی ہے تاکہ تکنیکی اور تعمیلی بوجھ کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
تاہم وزارتِ آئی ٹی نے اس تاثر کی تردید کی کہ حکومت اسمارٹ فون کمپنیوں سے سورس کوڈ حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
حکومت اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان کشمکش جاری
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی حکومتی تقاضوں پر ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہو۔
گزشتہ ماہ حکومت نے نگرانی کے خدشات کے باعث سرکاری سائبر سکیورٹی ایپ لازمی قرار دینے کا حکم واپس لے لیا تھا۔
تاہم گزشتہ سال چینی جاسوسی کے خدشات کے پیشِ نظر سیکیورٹی کیمروں کے لیے سخت ٹیسٹنگ لازمی قرار دی گئی۔
مزید پڑھیں: بھارت میں فون لوکیشن کی نگرانی، ایپل، گوگل اور سام سنگ نے سخت اعتراضات اٹھا دیے
کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے مطابق بھارت میں شاؤمی کا مارکیٹ شیئر 19 فیصد، سام سنگ کا 15 فیصد اور ایپل کا 5 فیصد ہے۔
نئے بھارتی ٹیلی کام سیکیورٹی تقاضوں میں سب سے حساس نکتہ سورس کوڈ تک رسائی ہے، یعنی وہ بنیادی پروگرامنگ ہدایات جن سے فون کام کرتا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اس کو نامزد بھارتی لیبارٹریوں میں جانچا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کی سب سے بڑی فضائی ایئرلائنز کی ہزاروں پروازیں منسوخ، ایئرپورٹس پر شدید بدنظمی
ان تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ کمپنیوں کو ایسا سوفٹ ویئر ڈیزائن کرنا ہوگا جس کے تحت پہلے سے انسٹال ایپس کو حذف کیا جا سکے اور ایپس کو پس منظر میں کیمرہ اور مائیکروفون استعمال کرنے سے روکا جا سکے تاکہ ’بد نیتی پر مبنی استعمال‘ سے بچا جا سکے۔
دسمبر میں وزارتِ آئی ٹی کی ایک دستاویز کے مطابق، صنعت نے اس بات پر اعتراض اٹھایا کہ دنیا میں کسی بھی ملک نے اس نوعیت کے سکیورٹی تقاضے نافذ نہیں کیے۔
مزید پڑھیں: بھارتی فلیگ شپ میزائل براہموس تکنیکی کمزوریوں کا شکار
یہ معیارات 2023 میں تیار کیے گئے تھے اور اب حکومت انہیں قانونی شکل دینے پر غور کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ آئی ٹی اور ٹیک کمپنیوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان منگل کے روز مزید بات چیت متوقع ہے۔
’سورس کوڈ کا جائزہ ناممکن ہے‘
اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں اپنے سورس کوڈ کو سختی سے محفوظ رکھتی ہیں۔ ایپل نے 2014 سے 2016 کے دوران چین کی جانب سے سورس کوڈ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
بھارت کی تجاویز کے تحت ’کمزوریوں کے تجزیے‘ اور ’سورس کوڈ ریویو‘ کے لیے مکمل سیکیورٹی جانچ لازم ہوگی، جس کے بعد بھارتی لیبارٹریز اس کی تصدیق کریں گی۔














