بنگلہ دیش کی سرحدی فورسز نے تصدیق کی ہے کہ تیکناف سرحد کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیے گئے تمام 53 روہنگیا افراد، اوکھیا اور تیکناف کے مہاجر کیمپوں میں رجسٹرڈ مہاجر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی سخت شرائط کے تحت غزہ بین الاقوامی فورس میں شمولیت پر آمادگی
مقامی حکام کے مطابق یہ گروپ اس سے قبل کاکس بازار کے مہاجر کیمپوں سے نکل کر سمندری اور دریائی راستوں کے ذریعے میانمار کی ریاست راکھین میں داخل ہوا تھا۔
تاہم راکھین میں دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی اور فائرنگ کے باعث انہوں نے اتوار کے روز نَف دریا عبور کر کے بنگلہ دیش واپس آنے کی کوشش کی۔
ان افراد کو تیکناف کے ہوائیکانگ سرحدی علاقے میں گشت کے دوران بارڈر گارڈ بنگلہ دیش نے حراست میں لیا جس کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
مزید پڑھیے: بھارتی حکام سے حقوق انسانی تنظیم کا روہنگیا ماں کی رہائی کا مطالبہ
پولیس کے مطابق تیکناف ماڈل پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں شامل ایک 20 سالہ روہنگیا نوجوان کفایت اللہ کو گولی لگنے کے زخم آئے تھے۔ اسے پہلے ٹیکناف اپازلا ہیلتھ کمپلیکس منتقل کیا گیا بعد ازاں چٹاگرام میڈیکل کالج اسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہے۔ سرحدی فورس کی جانب سے درج مقدمے میں کفایت اللہ کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد مہاجر کیمپوں کے رہائشی ہیں تاہم یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ان میں سے کسی کے میانمار میں سرگرم مسلح روہنگیا گروہوں سے روابط تو نہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا
ادھر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ریاست راکھین میں اراکان آرمی اور روہنگیا مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران بعض گولیاں بنگلہ دیشی حدود میں داخل ہو گئیں جس کے نتیجے میں ٹیکناف کے ہوائیکانگ علاقے میں ایک اسکول جانے والی بچی زخمی ہو گئی۔ بچی اس وقت چٹاگرام میڈیکل کالج اسپتال میں زیر علاج ہے، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت تشویشناک قرار دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کیجانب سے بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا مسلمانوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری
یہ واقعہ ایک بار پھر بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد پر سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے جہاں راکھین میں بڑھتی ہوئی بدامنی خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔














