ملک کے مختلف علاقوں میں شدید دھند چھائے رہنے کے باعث متعدد اہم موٹرویز کو ٹریفک کے لیےعارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موسم کا نیا رنگ، پہلی بارش نے سردیوں کا اعلان کر دیا
موٹروے پولیس کے مطابق حدِ نگاہ خطرناک حد تک کم ہو جانے کے سبب حفاظتی تدابیر کے تحت موٹرویز کی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایم-1: پشاور سے رشکئی تک بند ہے۔
ایم-2: ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری انٹرچینج تک بند ہے۔
ایم-3: فیض پور سے درخانہ تک بند ہے۔
ایم-4: پنڈی بھٹیاں سے شیر شاہ تک بند ہے۔
ایم-5: شیر شاہ سے ضاہر پیر تک بند ہے۔
ایم-11: محمود بوٹی سے سمبڑیال تک بند ہے۔— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) January 17, 2026
ترجمان موٹروے پولیس نے بتایا کہ موٹروے ایم ون پشاور سے رشکئی تک جبکہ موٹروے ایم 2 ٹھوکر نیاز بیگ سے چکری انٹرچینج تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
اسی طرح موٹروے ایم 3 فیض پور سے جڑانوالہ تک ٹریفک معطل ہے، جبکہ موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک شدید دھند کی زد میں ہونے کے باعث بند کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: محکمہ موسمیات نے شدید سرد لہر کے خدشات کو مسترد کردیا
مزید برآں موٹروے ایم 11 لاہور سے سمبڑیال تک اور موٹروے ایم 14 داؤد خیل سے عیسیٰ خیل تک ٹریفک کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دورانِ سفر فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں اور تیز رفتاری سے اجتناب کریں تاکہ کسی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے 16 سے 22 جنوری کے دوران شمالی علاقوں میں شدید برف باری کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ملک بھر میں سردی کی لہر برقرار، میدانی علاقوں میں شدید دھند جبکہ پہاڑوں میں یخ بستہ موسم
الرٹ کے مطابق مغربی ہواؤں کے نئے نظام کے اثرات کے باعث گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں موسلادھار بارش اور شدید برف باری کا امکان ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے نے بتایا کہ گلگت، ہنزہ، سکردو، استور، چترال، دیر، مالم جبہ، سوات، بٹگرام، ناران، کاغان، گلیات اور مری میں درمیانے سے شدید درجے کی برف باری متوقع ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے علاقوں نیلم ویلی، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ اور پونچھ میں بھی بارش اور برف باری کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
شدید برف باری کے نتیجے میں سڑکوں پر پھسلن، عارضی بندش اور حدِ نگاہ میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور حادثات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: دنیا کے سمندروں میں 2025 میں ریکارڈ حدت، شدید موسمی بحران کا خدشہ
مزید برآں 20 سے 23 جنوری کے دوران پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں بارش متوقع ہے، جس کے باعث بجلی کی ترسیل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور اگر سفر ناگزیر ہو تو گاڑیوں کے ٹائروں پر حفاظتی زنجیروں کا استعمال لازمی بنائیں۔
الرٹ میں صوبائی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ممکنہ برف باری کے پیش نظر پیشگی انتظامات مکمل رکھیں اور برف ہٹانے والی مشینری اور دیگر ضروری وسائل کی دستیابی یقینی بنائیں۔













