وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جس طرح سندھ نے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے حوالے سے کارکردگی دکھائی، باقی صوبوں کو بھی اس کی مثال قائم کرنی چاہیے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شرجیل میمن نے کہاکہ ہمارے ملک میں سیاست کا رجحان تنقید پر مبنی ہو گیا ہے، حالانکہ دو روز قبل چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے ایوان صدر میں سندھ کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی، لیکن بعض افراد نے اس دوران تنقید کی۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی نے ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا، دورہ کراچی پر ایک اور 9 مئی کی سازش کی گئی، شرجیل میمن
ان کے مطابق ایوان صدر تمام عوام کے لیے ہے اور مختلف اداروں کی تقریبات یہاں معمول کے مطابق منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
صوبائی وزیر نے مزید کہاکہ بلاول بھٹو نے بریفنگ کے دوران سائبر نائف پروجیکٹ کے حوالے سے بتایا، جو دنیا کے گیارہ ممالک میں دستیاب ہے اور پاکستان میں حکومت سندھ اس پروجیکٹ کی قیادت کر رہی ہے، جس کے تحت علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان جدید طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
شرجیل میمن نے سیلاب کے دوران بلاول بھٹو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت 21 لاکھ گھر تعمیر کرے گی تاکہ بے گھروں کو مستقل رہائش دی جا سکے۔
ان کے مطابق پاکستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بہترین مثال بھی حکومت سندھ کے اقدامات ہیں، اور صوبے میں ہزاروں لوگ علاج کے لیے سندھ کے اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں ڈومیسائل شرط نہیں۔ اب تک 2.9 ملین افراد کا مفت علاج کیا جا چکا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ تھر کول کے منصوبوں پر ایک ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں اور تھرپارکر کے کوئلے کے ذخائر سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ میں منتقل کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق سندھ حکومت کے یہ اقدامات صرف ایک علاقے یا شخص کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے فائدے کے لیے کیے گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہاکہ جس طرح چیئرمین پی پی پی نے ایوان صدر میں بریفنگ دی، وہ بریفنگ بیرونِ ممالک بھی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ بریفنگ میں سفارتکاروں اور بزنس کمیونٹی کی بڑی تعداد شامل ہوئی، اور یہ ملک کے لیے ایک منفرد اور مثبت پیغام ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت خواب دیکھنا چھوڑ دے، سندھ قیامت تک پاکستان کا حصہ رہے گا، شرجیل میمن
صوبائی وزیر نے یہ بھی کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سندھ دورے کے دوران کچھ امور پر اتفاق نہیں ہوا، تاہم ان کے ساتھ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی اور آئینی حیثیت کے مطابق ان کا احترام کیا گیا۔ سیکورٹی خدشات کے حوالے سے بھی تمام اقدامات کیے گئے۔














