چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اے ایم ایم ناصر الدین نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ قومی انتخابات کو پُرامن، شفاف اور شمولیتی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
چیف الیکشن کمشنر نے یہ بات اتوار کی شام اگرگاؤں، ڈھاکا میں واقع الیکشن کمیشن آڈیٹوریم میں کہی، جہاں 13ویں جاتیہ سنگساد (قومی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسران کی جانب سے نامزدگی فارموں کی منظوری یا مسترد کیے جانے کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں کی 9 روزہ سماعت مکمل ہوئی۔
ان سماعتوں میں مکمل الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں شریک رہا۔
یہ بھی پڑھیے عام انتخابات اور ریفرنڈم میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا مطالبہ
اپیل کنندگان اور ان کے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے ناصر الدین نے کہا کہ آپ سب نے اپیلوں کے فیصلے میں ہماری بھرپور مدد کی۔ یہ تعاون یہاں ختم نہیں ہوتا، ہمیں آئندہ ووٹنگ کے عمل کو ہموار بنانے کے لیے بھی آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔
شمولیتی اور منصفانہ انتخابات پر زور
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک منصفانہ اور شمولیتی انتخابی عمل چاہتا ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور عناصر کی شرکت یقینی ہو۔
انہوں نے آزاد امیدواروں کے لیے ایک فیصد ووٹ کی شرط سے متعلق کمیشن کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کا مقصد انتخابات میں وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
نوجوانوں کی سیاسی آگاہی پر اطمینان
ناصر الدین نے ملک کے عوام، بالخصوص نوجوانوں کی سیاسی آگاہی پر اطمینان کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن اور اس کی ٹیم کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی شعور جمہوری عمل کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
جانبداری کے الزامات مسترد
چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اپیلوں کے فیصلے کسی بھی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات
انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام فیصلے مکمل تجزیے اور اپنی بہترین صلاحیت اور فہم کے مطابق کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی الیکشن کمیشن کو تمام حلقوں سے اسی طرح کا تعاون حاصل رہے گا۔












