کریپٹو کرنسی کے سلسلے میں رقم چوری ہونے کا درد کچھ الگ ہی ہوتا ہے کیونکہ تمام لین دین ڈیجیٹل لیجر یا بلاک چین پر ریکارڈ ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی آپ کا پیسہ لے کر اپنی والٹ میں ڈال دے تب بھی یہ آن لائن دکھائی دیتا ہے لیکن واپس لینا ناممکن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کرپٹو مائننگ: پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگ میل یا خطرناک تجربہ؟
بی بی سی کے مطابق برطانیہ کی رہائشی ہیلن، جنہیں تقریباً 315,000 ڈالر کا نقصان ہوا، کہتی ہیں آپ اپنے پیسے کو پبلک بلاک چین پر دیکھ سکتے ہیں لیکن واپس کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسے ہے جیسے چور آپ کے قیمتی سامان کو ایک ناقابل عبور کھائی کے پار رکھ دے۔
ہیلن اور رچرڈ کا تجربہ
ہیلی اور ان کے شوہر رچرڈ نے 7 سال تک کارڈینو کرپٹو کو جمع کیا۔ وہ ڈیجیٹل اثاثے میں سرمایہ کاری کے امکانات پسند کرتے تھے لیکن ایک دن ہیکرز ان کے کلاؤڈ اسٹوریج اکاؤنٹ تک پہنچ گئے جہاں کرپٹو والٹس کی معلومات محفوظ تھیں۔
فروری 2024 میں ایک چھوٹا سا ٹیسٹ ٹرانسفر کرنے کے بعد چوروں نے ان کے تمام کوائنز اپنی والٹس میں منتقل کر دیے۔ اس کے بعد وہ کئی ماہ تک اپنی رقم کو مختلف والٹس میں منتقل ہوتے دیکھتے رہے لیکن کچھ نہیں کر سکے۔
مزید پڑھیے: کراچی سے چوری شدہ گاڑیوں کی کوئٹہ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب
کرپٹو کرائم میں اضافہ
سنہ2025 میں کرپٹو چوری کی مجموعی رقم تقریباً 3.4 بلین ڈالر تھی۔
انفرادی سرمایہ کاروں پر حملوں سے تقریباً 713 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
سنہ 2022 میں 40,000 حملے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 80,000 تک پہنچ گئی۔
زیادہ تر رقم کرپٹو کمپنیز پر اثر نہیں کرتی کیونکہ ان کے پاس بڑے فنڈز ہوتے ہیں لیکن انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ہیکرز اور پرانے حربے
کچھ گروپس نے چوری شدہ ڈیٹا بیس استعمال کر کے سرمایہ دار افراد کو ہدف بنایا۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریائی ہیکر اربوں ڈالرز مالیت کے کرپٹو اثاثے لے اُڑے
کچھ نے گھریلو حملے کیے جہاں متاثرین کو خطرناک آلات سے دھمکایا گیا۔
اسپین، فرانس اور برطانیہ میں کئی ہنگامی واقعات رپورٹ ہوئے۔
خود کی حفاظت اور ’بینک بننا‘
ماہرین جیسے میتھیو جونز کہتے ہیں کہ اب سرمایہ کار ’خود اپنا بینک‘ بن کر اپنے والٹس رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کیوں کہ اگر آپ کی کرپٹو چوری ہو جائے تو کسی ادارے سے شکایت کرنا ممکن نہیں۔
اپنا بینک بننے سے کیا مراد ہے؟
کرپٹو کی دنیا میں خود اپنا بینک بننے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے والٹ کے مالک خود ہوتے ہیں اور آپ کے پاس اپنے کرپٹو اثاثوں پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔ کوئی بینک یا ادارہ درمیان میں نہیں ہوتا اس لیے آپ کسی کے اجازت کے بغیر کرنسی بھیج یا وصول کر سکتے ہیں۔
تاہم اس آزادی کے ساتھ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اگر آپ کا والٹ ہیک ہو جائے یا ڈیجیٹل کیز چوری ہو جائیں تو کوئی ادارہ آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔ یعنی پیسہ چوری ہونے کی صورت میں واپس لینا ناممکن ہے اور ساری ذمہ داری صرف آپ پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپٹو میں خود کنٹرول کے فوائد کے ساتھ ساتھ احتیاط اور مضبوط حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
ہیلی اور رچرڈ نے تمام کوائنز کھو دیے جن میں زیادہ تر رقم رچرڈ کی والدہ کے گھر کی فروخت سے آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے اپنے آلات اور گاڑی بیچ دی اور وقتی طور پر بے گھر بھی ہوئے۔ پھر بھی وہ مکمل طور پر کرپٹو چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور بچت کے بعد دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔














