واشنگٹن ڈی سی میں قائم ادارے انڈیا ہیٹ لیب (IHL) نے اپنی سالانہ رپورٹ “Hate Speech Events in India: Report 2025” جاری کر دی ہے، جس میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی نفرت انگیز تقاریر میں تشویشناک اضافے کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران بھارت میں نفرت انگیز تقاریر کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ واقعات 21 ریاستوں، مقبوضہ جموں و کشمیر اور دہلی میں پیش آئے، جہاں اوسطاً روزانہ 4 نفرت انگیز تقاریر ہوئیں۔
مزید پڑھیں: بم کی اطلاع پر بھارتی طیارے کی لکھنؤ میں ہنگامی لینڈنگ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ عیسائیوں کے خلاف واقعات میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نفرت انگیز زبان میں اقلیتوں کو کیڑے، دیمک، سانپ، پاگل کتے اور دہشتگرد جیسے الفاظ سے پکارا گیا، جبکہ 308 تقاریر کو براہِ راست تشدد پر اکسانے والی قرار دیا گیا۔
1,318 hate speech events in 2025, i.e., 4 every day on an average. 88% in BJP-ruled territories. 98% targeted Muslims. 97% shared on social media. The CSoH report confirms India’s accelerating descent into politics of hate. | @Shinjineemjmdrhttps://t.co/lOoAICBtfn
— Alt News (@AltNews) January 17, 2026
انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق نفرت انگیز بیانیہ اب بھارتی سیاست کا مستقل ہتھیار بن چکا ہے، جسے انتخابی مہمات، مذہبی جلوسوں اور عوامی اجتماعات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو نسلی دہشتگردی قرار دیا گیا ہے، جہاں نفرت انگیز تقریر براہِ راست ہجوم کے تشدد، لنچنگ، جبری بے دخلیوں، مساجد و گرجا گھروں کی مسماری اور اقلیتوں پر حملوں کا باعث بنتی ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت، منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی
رپورٹ کے مطابق 88 فیصد نفرت انگیز واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں میں پیش آئے، جن میں اتر پردیش، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، راجستھان، دہلی، گجرات اور آسام سرِفہرست ہیں۔ متعدد واقعات کا براہِ راست تعلق ریاستی اور قومی انتخابات سے بھی جوڑا گیا ہے۔
انڈیا ہیٹ لیب نے بتایا کہ 160 سے زائد تنظیمیں، جن کا تعلق آر ایس ایس، بی جے پی نیٹ ورک سے ہے، ان سرگرمیوں میں ملوث پائی گئیں، جبکہ کئی حکومتی وزرا اور مذہبی رہنماؤں کی تقاریر کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر کے نتیجے میں 2025 کے دوران درجنوں افراد لنچنگ کا شکار ہوئے، ہزاروں مسلمانوں کو بے دخل کیا گیا اور متعدد علاقوں میں اقلیتی آبادیوں کو مسمار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ: بنگلہ دیش کا بھارت کے بجائے سری لنکا میں کھیلنے پر اصرار
عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انڈیا ہیٹ لیب نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ امریکی ہولوکاسٹ میوزیم نے بھارت کو دنیا میں اجتماعی قتل کے خطرے کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر رکھا ہے، جبکہ جینوسائیڈ واچ نے بھارت کو نسل کشی کے 8ویں مرحلے میں قرار دیا ہے۔
राजस्थान, झालावाड़ के अकलेरा इलाके में एक दक्षिणपंथी ग्रुप ने कथित तौर पर बीफ़ (गोमांस) खाने का आरोप लगाकर एक बुज़ुर्ग आदमी को बेरहमी से पिटाई की। उन्होंने उस पर रोहिंग्या बांग्लादेशी होने का भी आरोप लगाया।#rajsthan #jhalawar #Islamophobia #MobLynching #muslim #BJPGovernment pic.twitter.com/n4G0rCWGdT
— Reporter Madam (@Reportermadam) January 2, 2026
رپورٹ کے اختتام پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر قانون سازی، سوشل میڈیا نگرانی اور ادارہ جاتی اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے انتخابات کے دوران تشدد اور اقلیتوں کے خلاف کارروائیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔














