بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے جماعتِ اسلامی کے نائب امیر سید عبداللہ محمد طاہر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ بی این پی نے بھارت کے ساتھ خفیہ معاہدے کیے ہیں، اور اسے بے بنیاد، گمراہ کن اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیشی انتخابات: بی این پی اتحاد دو نشستوں پر امیدوار سے محروم، جماعت اسلامی کو کوئی بحران درپیش نہیں
وی نیوز کے مطابق ہفتے کے روز گلشن میں پریس بریفنگ کے دوران بی این پی الیکشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانات یا تو دانستہ غلط معلومات پھیلانے کی کوشش ہیں یا لاعلمی کا نتیجہ۔
مہدی امین نے کہا کہ بی این پی کی سیاست پارٹی قیادت، خصوصاً طارق رحمان کی سربراہی میں، بنگلہ دیش کی خودمختاری اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی این پی نے ماضی میں تیستا پانی کی تقسیم اور سرحد پر فیلانی کے قتل جیسے معاملات پر بھارت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا تھا۔

انہوں نے اس موقع پر بی این پی کی جانب سے انتخابی رابطے کے لیے ہاٹ لائن 16543 اور واٹس ایپ نمبر 01806977577 کا اعلان بھی کیا، تاکہ ووٹرز سے براہِ راست رابطہ قائم کیا جا سکے۔
بی این پی ترجمان نے عوام کو خبردار کیا کہ کچھ عناصر مجوزہ فیملی کارڈ اور کسان کارڈ کے نام پر رقم طلب کر رہے ہیں، جو دھوکہ دہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بی این پی اقتدار میں آئی تو ایسے تمام کارڈز عوام میں بلا معاوضہ تقسیم کیے جائیں گے۔













