پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بینچ نے دوران ملازمت وفات پانے والے سرکاری ملازم کے بیٹے روشن علی خان کو ملازمت کا حق دار قرار دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس صابت اللہ خان نے پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کالج چترال کے خلاف مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مرحوم حبیب اللہ خان کے بیٹے روشن علی خان اپنے والد کی جگہ ملازمت کا حق رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر شہریوں سے رقوم بٹورنے میں ملوث خاتون گرفتار
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2024 میں ملازمت کے کوٹہ کا قانون غیر آئینی قرار دیا ہے، لہٰذا مدعا علیہ کے حق میں ماتحت عدالت کا فیصلہ منسوخ کیا جائے۔
تاہم، روشن علی خان کے وکیل نیاز احمد نیازی نے مؤقف اختیار کیا کہ ماتحت عدالت نے 2021 میں فیصلہ دیا تھا، اور اس وقت کوٹہ کا قانون موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا 2024 کا فیصلہ ماضی کے فیصلوں پر لاگو نہیں ہوتا، اور انہوں نے مقدمہ زاہدہ پروین بمقابلہ حکومت خیبر پختونخوا (17.3.25) کا حوالہ بھی دیا۔
مزید پڑھیں: سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ نوکری کرنے والوں کو حکومت نے خوشخبری سنا دی
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کالج کی اپیل خارج کر دی اور روشن علی خان کو قانونی حقدار قرار دیا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم قانونی تشریح پر مبنی ہے اور اسے کیس لاز رولنگ آف پاکستان نے سوشل میڈیا پر نمایاں کوریج کے ساتھ رپورٹ کیا ہے۔














