بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کے باعث وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی رابطے کیے۔
اس موقع پر وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ہمراہ پولیس لائن گئے تاکہ شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے، 108 ہلاک، 10 جوان شہید
نمازِ جنازہ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہدا کے لواحقین سے ملاقات کی، جہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان آبدیدہ ہو گئے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہمارے بہادر جوانوں نے دہشتگردوں کا جرات اور عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ریاست ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور رہے گی، اور شہدا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھیں گے، یہ ایک عظیم قربانی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے خطاب میں کہاکہ بلوچستان کے عوام شہدا کے خون کے مقروض ہیں۔ انہوں نے شہدا کے لواحقین سے وعدہ کیا کہ خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔
انہوں نے شہریوں اور شہدا کے لواحقین سے صبر اور حوصلے کے دامن مضبوطی سے تھامے رکھنے کی بھی تاکید کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نہایت بہادر اور باہمت ہیں۔ ہمارے بہادر جوانوں نے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی، شہدا کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور
واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملے ناکام بناتے ہوئے اب تک 108 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا ہے، جبکہ اس دوران 10 جوان بھی شہید ہوگئے ہیں۔














