سپریم کورٹ نظرثانی کا نیا قانون منظور: نواز شریف، جہانگیر ترین سمیت کتنے افراد کو ریلیف ملے گا؟

پیر 29 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 2023 کی توثیق کردی اور اب یہ باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔

اس بل کے قانون بننے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف، سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور جہانگیر ترین سمیت ان تمام افراد کو اپیل کا حق حاصل ہوگیا ہے جنہیں نااہلی کا سامنا تھا۔

آج جب 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق سماعت کا آغاز ہوا تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظرثانی سے متعلق قوانین منظور ہوچکے ہیں جس کا اطلاق جمعہ 26 مئی سے ہوچکا ہے۔

1685345348_700 by Fahim Patel on Scribd

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اسی لیے الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل سواتی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اصل دائرہ اختیار آرٹیکل 184/3 میں نظرثانی کا قانون بنایا گیا ہے، سپریم کورٹ کے نظرثانی اختیار کو وسیع کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ عدالتِ عدلیہ کی آزادی کے قانون کو لاگو کرتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 184/3 کے دائرہ اختیار کے کیسز میں نظرثانی ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے ہی فیصلے آرٹیکل 187 کے تحت نظرثانی کا دائرہ اختیار بڑھانے کی راہ دے رہے ہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں حکومت نے نیا عدالتی دائرہ اختیار بنادیا، حکومت نے عدالت کے انتظامی امور میں بھی مداخلت کی کوشش کی، خوشی ہے کہ موجودہ قانون صرف 184 تھری کے بارے میں ہے، سب کو دوبارہ سوچنا ہوگا۔

سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹس اینڈ آرڈر بل 2023 کیا ہے؟

واضح رہے کہ اس بل کی منظوری سے پہلے چیف جسٹس کے کسی بھی ازخود فیصلے پر اپیل کا حق نہیں تھا مگر اب اس بل کی منظوری کے بعد یہ حق بھی حاصل ہوگیا ہے۔

نااہلی کے حوالے سے یہ ترمیم محسن داوڑ کی جانب سے پیش کی گئی تھی جو بل میں شامل کرلی گئی جس سے نواز شریف کے علاوہ یوسف رضا گیلانی، جہانگیر ترین اور از خود نوٹس کیسز کے فیصلوں کے دیگر متاثرین بھی مستفید ہوسکیں گے۔ ایسے افراد کو اب 60 روز میں ون ٹائم اپیل کا حق حاصل ہوگا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں سپریم کورٹ کے اوریجنل جورسڈکشن میں موجود تمام فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق دے دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نظرثانی کی درخواست سننے والا بینچ بنیادی کیس سننے والے بینچ سے بڑا ہوگا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد حسین مگسی نے 29 مئی کو یہ بل پیش کیا تھا۔ اس موقع پر محسن داوڑ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ کراچی کا نسلہ ٹاور بھی ازخود نوٹس کی وجہ سے گرایا گیا اور ماضی میں 184/3 (ازخود نوٹس) کے متاثرین کو 30 دن میں اپیل کا حق دیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ یہ ایک بار کی قانون سازی ہے اور اس سے کوئی پنڈورا باکس نہیں کھلے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں