بنگلہ دیش پولیس نے جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ کی مبینہ ہیکنگ کے معاملے میں ایوانِ صدر (بنگابھون) کے ایک اہلکار کو حراست میں لے لیا ہے۔
ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) کے مطابق محمد سرور عالم، جو بنگابھون میں اسسٹنٹ پروگرامر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے، کو منگل کی رات دارالحکومت کے علاقے راجر باغ سے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔
ڈیٹیکٹو برانچ کی تصدیق، تفتیش جاری
ڈی بی کے ایڈیشنل کمشنر شفیق الاسلام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ محمد سرور عالم کو ہیکنگ کیس کے سلسلے میں ڈی بی دفتر منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے وفد کی چیف ایڈوائزر سے ملاقات، آئندہ انتخابات پر گفتگو
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ تحویل میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں، جبکہ مزید کارروائی کا فیصلہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
تنازعہ کیسے شروع ہوا؟
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ہفتے کی دوپہر جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان کے تصدیق شدہ ایکس اکاؤنٹ سے انگریزی زبان میں ایک متنازع پوسٹ شائع ہوئی۔
اس پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ خواتین کو ’جدیدیت‘ کے نام پر گھروں سے باہر کام کرنے کی ترغیب دینے کے نتیجے میں وہ استحصال اور عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہیں۔
اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، جبکہ بی این پی سے وابستہ کارکنوں اور دیگر صارفین نے جماعت کے سربراہ پر کام کرنے والی خواتین کی توہین کا الزام عائد کیا۔
جماعتِ اسلامی کا مؤقف: اکاؤنٹ ہیک کیا گیا
جماعتِ اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کو فاشسٹ طرز سیاست سے نکالنا ضروری، جماعت اسلامی
اتوار کی رات تقریباً 12:40 بجے جماعت کی جانب سے جاری کردہ فیس بک بیان میں کہا گیا کہ سائبر حملے کے ذریعے جماعت کے امیر کے نام سے جعلی بیانات جاری کیے گئے۔ جماعت کے دیگر سینئر رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حکومتی ای میل کا استعمال
اتوار کی صبح جماعتِ اسلامی کے آئی ٹی سیل نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا کہ ہیکنگ کے لیے حکومتی ای میل ایڈریس استعمال کیا گیا۔
ان کے مطابق ایک فائل، جسے انتخابی معلومات پر مبنی بتایا گیا۔ جماعت کے ای میل اکاؤنٹ پر [email protected] سے موصول ہوئی جسے محمد سروار عالم سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
سیاسی تناؤ اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کا مسئلہ
یہ واقعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی، سائبر حملے اور آن لائن غلط معلومات ملک کے سیاسی ماحول میں اہم اور حساس مسائل بن چکے ہیں، جس پر حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔













