بھارت سےسورج ناراض، مواصلاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ

بدھ 4 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سورج پر شدید سرگرمی کے ایک نئے سلسلے کے باعث بھارت کو طاقتور ریڈیو بلیک آؤٹ کے خطرے کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے چاند کے بعد سورج کے راز کھوجنے کی ٹھان لی، آدتیا ایل ون لانچ کرنے کا اعلان

بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں کے نتیجے میں مواصلاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام سیٹلائٹس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

اسرو کے مطابق سورج سے اٹھنے والے شدید شمسی طوفان زمین کی سمت آنے کی صورت میں سیٹلائٹس، ٹی وی سگنلز، ریڈار سسٹمز اور بجلی کے گرڈ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کے 50 سے زائد فعال سیٹلائٹس کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی مواصلات، نیویگیشن اور سیٹلائٹ آلات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک کے ڈائریکٹر انیل کمار نے بتایا کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کے امکانات واضح ہیں اور کسی بھی ممکنہ مواصلاتی خلل سے فوری طور پر نمٹا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام گراؤنڈ اسٹیشنز کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال سورج پر موجود ایک انتہائی متحرک مقناطیسی خطے ایکٹو ریجن 14366 کے باعث پیدا ہوئی جہاں چند دنوں کے دوران 4 انتہائی طاقتور شمسی شعلے خارج ہوئے جن میں X8.1 درجے کا شعلہ 2026 کا اب تک کا سب سے طاقتور شعلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ناسا کے مطابق یہ شعلے یکم اور 2 فروری کے درمیان اپنے عروج پر پہنچے اور اکتوبر 2024 کے بعد سب سے روشن شمسی شعلہ ریکارڈ کیا گیا۔

شمسی سائنس دان پروفیسر دیبیندو نندی کے مطابق سورج کا یہ رویہ غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ مذکورہ مقناطیسی خطہ غیر معمولی طور پر سرگرم ہے اور مسلسل شمسی طوفان خارج کر رہا ہے۔

مزید پڑھیے: بھارت کو بڑا دھچکا، خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کا بڑا مشن ناکام، 16 سیٹلائٹس ضائع

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سائنس دانوں نے پہلے ہی صورتحال کا اندازہ لگا کر اسپیس ویڈر الرٹس جاری کر دیے تھے۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تاحال زمین کو براہ راست نشانہ بنانے والا کوئی انتہائی طاقتور شمسی پلازما بادل سامنے نہیں آیا تاہم چونکہ متحرک خطہ سورج اور زمین کے درمیان لائن کے قریب ہے اس لیے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس صورتحال میں بھارت کا پہلا شمسی مشن ادتیہ ایل-ون کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ایل-ون لاگرانج پوائنٹ پر موجود ہے۔ یہ مشن سورج کی سرگرمیوں پر حقیقی وقت میں نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے ڈیٹا کی مدد سے بروقت وارننگز جاری کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت کا ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ کو خلا میں داخل کرنے کا مشن ناکام

بھارتی سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ اس وقت کسی بڑے تباہ کن نقصان کا خطرہ نہیں تاہم سورج کی مسلسل غیر یقینی سرگرمی کے باعث بھارت سمیت دنیا بھر میں ہائی الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب

سربراہ پاک بحریہ کا ملائیشیا کا سرکاری دورہ، بحری تعاون بڑھانے پر اتفاق

بنگلہ دیش بارڈر گارڈ کی جنوری میں بڑی کارروائیاں، 200 سے زائد افراد گرفتار، اسمگل شدہ سامان برآمد

انڈس اے آئی ویک 2026: پی ٹی سی ایل جدید ترین اے آئی سہولیات کی نمائش کرے گی

بنگلہ دیش عام انتخابات: فوج اور سیکیورٹی اداروں کی 14 روز کے لیے تعیناتی

ویڈیو

لاہور میں بسنت فیسٹیول کی دھوم، آسمان پر ستاروں کی جگہ رنگ برنگی پتنگوں نے لے لی

مریم نواز نے مسکراہٹیں بکھیرنے کے لئے انتھک محنت کی، سلمٰی بٹ کا جشن بسنت

لائیو8 فروری احتجاج، اپوزیشن کی پہیہ جام کی اپیل ناکام، ملک بھر میں بڑے بازار کھلے رہے

کالم / تجزیہ

کچھ بسنت اور گڈی اڑانے سے متعلق

اسلام آباد سانحہ اور قومی بے حسی

پاکستان کا پیچا!