پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا جہاں انہوں نے رائل ملائیشین نیوی کی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ تعاون پر مبنی بحری سیکیورٹی اور بحری سفارت کاری کے فروغ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
دورے کا آغاز رائل ملائیشین نیوی ہیڈکوارٹرز سے ہوا، جہاں رائل ملائیشین نیوی کے سربراہ ایڈمرل تان سری (ڈاکٹر) ذوالحلمی بن اثنین نے ایڈمرل نوید اشرف کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاک بحریہ کے جہازوں کا عمان کے پورٹ سلطان قابوس کا دورہ، مشترکہ بحری مشقیں کیں
ملاقات کے دوران دونوں سربراہان نے بدلتے ہوئے اور پیچیدہ بحری ماحول میں تزویراتی ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے آپریشنل تعاون میں اضافے، استعداد کار بڑھانے اور ابھرتے ہوئے میری ٹائم سیکیورٹی چیلنجز کے خلاف مربوط ردعمل پر اتفاق کیا۔ ایڈمرل نوید اشرف نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرولز اور کمبائنڈ میری ٹائم فورسز میں پاک بحریہ کی مسلسل شرکت کو علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار بحری ریاست کے طور پر خطے کی سلامتی میں اپنا فعال کردار جاری رکھے گا۔

پاک بحریہ کے سربراہ نے ملائیشیا کے نیشنل ہائیڈروگرافک سینٹر کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں تکنیکی صلاحیتوں اور بحری سلامتی میں اس کے کردار پر بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: اسپارکو کا اہم سنگِ میل، پاکستانی خلابازوں کے انتخاب کا دوسرا مرحلہ مکمل
انہوں نے ہائیڈروگرافی کو مؤثر بحری آپریشنز کی بنیاد قرار دیتے ہوئے ملائیشیا کے نیشنل ہائیڈروگرافک سینٹر اور پاکستان کے نیشنل ہائیڈروگرافک آفس کے درمیان پیشہ ورانہ تربیت اور ڈیٹا کے تبادلے سمیت ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان کے مطابق پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ بحری تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار پر مبنی ہیں، اور یہ دورہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔













