بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادو نے چیک باؤنس کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے مہلت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد تہار جیل میں خود کو سرنڈر کر دیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد فلمی صنعت اور سیاسی حلقوں سے اظہارِ ہمدردی اور مالی تعاون کے اعلانات سامنے آ رہے ہیں۔
سیاستدان تیج پرتاپ یادو نے راجپال یادو کے خاندان کے لیے 11 لاکھ روپے مالی معاونت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ اور ان کی جماعت جنتا شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) راجپال یادو کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کے تحت یہ امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے پاس اب پیسے بھی نہیں‘، جیل جانے سے پہلے اداکار راجپال یادو جذباتی ہوگئے
اداکار گُرمیت چودھری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں راجپال یادو کی صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے فلمی برادری سے متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ راجپال یادو نے ناظرین کو بے شمار خوشیاں فراہم کیں اور اب انہیں صنعت کی حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پروڈیوسرز، ہدایت کاروں اور دیگر فنکاروں سے مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
اداکار و ناقد کمال آر خان (کے آر کے) نے بھی 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا اور بالی ووڈ سے اپیل کی کہ مجموعی طور پر 5 کروڑ روپے جمع کیے جائیں تاکہ راجپال یادو واجبات ادا کر کے جلد رہائی حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطلوبہ رقم ادا کر دی جائے تو قانونی پیچیدگیاں کم ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کو 6 ماہ قید کیوں سنائی گئی؟
واضح رہے کہ یہ قانونی معاملہ 2010 سے چل رہا ہے جب راجپال یادو نے اپنی ہدایت کاری کی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی کے بعد اداکار مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور کئی چیک باؤنس ہو گئے جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی۔
اپریل 2018 میں مجسٹریٹ کی عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو نیگوٹیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی سیکشن 138 کے تحت مجرم قرار دیا اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اداکار نے اس فیصلے کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کیں، لیکن معاملہ طویل عرصے تک عدالت میں جاری رہا اور واجب الادا رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے مشہور مزاحیہ اداکار راجپال یادیو قرض نہ چکانے پر پھر مشکل میں پڑگئے
اس دوران اداکار نے قرض کی کچھ رقم واپس کی جس میں 2025 میں 75 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ تاہم بار بار کی تاخیر پر عدالت نے ان کے ارادے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’سنجیدگی کی کمی‘ نظر آ رہی ہے۔
4 فروری 2026 کو جسٹس سوارنا کانتا شرما نے یادو کی حتمی درخواست کو یہ کہنے کے لیے مسترد کر دیا کہ انہیں فنڈز کے انتظام کے لیے ایک ہفتے کی مزید مہلت دی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بار بار نرمی نہیں دی جا سکتی، چاہے کوئی مشہور ہی کیوں نہ ہو اور اداکار کو فوراً سپرنڈر کرنے کا حکم دیا۔











