پی ٹی آئی نے عمران خان کی سیاست ترک کردی، رانا ثنااللہ

بدھ 11 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں عملی طور پر مائنس ون ہوگیا ہے، 8 فروری شٹر ڈاؤن کی ناکامی اس کی مثال ہے، ان کے اپنے صوبے میں بھی شٹرڈاؤن ناکام ہوئی،پی ٹی آئی نے عمران خان کی سیاست کو ترک کردیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت سے مفاہمت آگے نہیں بڑھ رہی تو یہ پی ٹی آئی کا اپنا قصور ہے، 8 فروری کو شٹرڈاؤن کی کال بالکل ناکام ہوئی ہے، اب انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی نے دہشتگردی کے خلاف بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، رانا ثنااللہ نے میٹنگ کا احوال بتا دیا

کیا عمران خان کو جیل سے گھر یا کہیں اور منتقل کرنے کی آفر کی جاسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے انہیں کبھی جیل سے منتقلی کی آفر نہیں کی، ہاں اگر وہ صحت کی بنیاد پر اسپتال منتقل ہونا چاہتے ہیں تو وہ عدالت میں درخواست دے سکتے ہیں، عدالت حکم دے تو انہیں اسپتال یا کہیں اور منتقل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی عملی طور پر مائنس ون کی جانب چلی گئی ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عملی طور پر مائنس ون کی طرف چلی گئی ہے، عمران خان نے پارٹی کو ہدایت کی تھی کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہونا چاہیے، پورے ملک میں تو چھوڑیں ان کے اپنے صوبے میں بھی شٹرڈاؤن ناکام ہوئی، پی ٹی آئی نے عمران خان کی سیاست کو ترک کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وزیراعظم سے ملاقات میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف کوئی بات نہیں کی، وہ اس آپریشن میں پورا تعاون کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب

ان کا کہنا تھا کہ اگر بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تو یہ مذاق بن جائے گا، اس سے خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کو نقصان پہنچے گا، علی امین گنڈاپور کو بھی عہدے سے ہٹایا جانا ٹھیک نہیں تھا، کیونکہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے تقاضے اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ سڑکوں پر نعرے لگاتا پھرے، یہ علی امین گنڈاپور کے لیے ممکن نہیں تھا اور سہیل آفریدی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ چاہتی ہے کہ بانی جیل میں ہی رہے اور ان کا کام چلتا رہے، باقی پی ٹی آئی میں اچھے لوگ بھی ہیں، انہیں نظام کے مطابق چلنا چاہیے، جو دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں ناکامی ہی ہوتی ہے۔

محمود خان اچکزئی کی وزیراعظم سے ملاقات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر بنے تو ہماری خواہش تھی کہ یہ ملاقات ہوجائے، مگر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ حکومت 8 فروری کال کو ناکام بنانے کے لیے ملاقات کی بات کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کو اسلام آباد تک کوئی نہیں پہنچنے دےگا، رانا ثنااللہ کا اسٹریٹ موومنٹ کی تیاریوں پر ردعمل

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے پاس اختیار نہیں ہے یا وہ نہیں چاہیں گے کہ وہ عمران خان کی اجازت کے بغیر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں، کیونکہ وہ اجازت کے بغیر ملاقات کرتے ہیں تو پی ٹی آئی کی گالم گلوچ بریگیڈ ان کو اڑا کے رکھ دے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا قیادت میں تبدیلی کی کوششیں تیز، نوجوان قیادت جنید اکبر کے خلاف کیوں؟

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟