پاکستان خطے میں اہم شراکت دار ہے، تجارت اور سیکیورٹی تعاون بڑھا رہے ہیں، امریکا

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹرمپ انتظامیہ کے جنوبی و وسطی ایشیا سے متعلق امور کے ذمہ دار امریکی معاون وزیر خارجہ پال کپور نے کانگریس کو بتایا ہے کہ پاکستان خطے میں امریکا کا ایک اہم شراکت دار ہے اور واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ تجارت، معاشی تعاون اور سیکیورٹی تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں:پاک امریکا معاشی روابط میں پیشرفت، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول پر زور

ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا سے خطاب کرتے ہوئے پال کپور نے کہا کہ امریکا اور پاکستان اہم معدنی وسائل کی ترقی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے بقول امریکی سرکاری ابتدائی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی مہارت دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت بھی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے انسداد دہشتگردی کے شعبے میں جاری تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک پاکستان کو اندرونی سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے اور امریکا یا اس کے اتحادیوں کو لاحق سرحد پار خطرات سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

سماعت کے دوران ارکانِ کانگریس نے شدت پسندی، پاکستان کی ماضی کی سیکیورٹی حکمت عملی اور خطے کی صورتحال سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔ ایک رکن نے پوچھا کہ کیا جنوبی و وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گروہ امریکا میں سرگرم ہیں؟ کپور نے جواب دیا کہ منظم طور پر ایسے گروہوں کی امریکا میں موجودگی کا علم نہیں، تاہم انفرادی افراد کہیں بھی موجود ہو سکتے ہیں، اور دہشتگردی سے نمٹنے کا ایک چیلنج یہی ہے کہ چند افراد عام آبادی میں گھل مل جاتے ہیں۔

سماعت میں چین کے مقابلے میں امریکی حکمت عملی اور بھارت کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ پال کپور نے کہا کہ ایک مضبوط اور خودمختار بھارت امریکا کے اسٹریٹجک مفاد میں ہے کیونکہ اس سے چین کے خطے میں غلبے کی کوششوں کو توازن ملتا ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا نے افغانستان کو مذہبی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں والا ملک قرار دینے کی تجویز دے دی

انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور طالبان کو تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کو افغان خواتین کے حقوق میں بہتری سے مشروط کرنے پر زور دیا۔

پال کپور نے بتایا کہ امریکا قطر میں قائم ایک کیمپ بند کرنے کے سلسلے میں افغان شہریوں کو رضاکارانہ واپسی کے لیے مالی معاونت کی پیشکش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی افغان کو زبردستی واپس نہیں بھیجا جا رہا، تاہم قریباً 150 افراد مالی پیشکش قبول کر چکے ہیں، اور واپسی کے بعد ان کی صورتحال کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں