عمران خان کی طبی رپورٹ سے متعلق گردش کرنے والی معلومات گمراہ کن قرار

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ طبی رپورٹ سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟

مصدقہ ذرائع کے مطابق عمران خان کو ماضی میں بینائی سے متعلق مسائل درپیش رہے ہیں، جن کا ذکر ان کی عوامی تقاریر اور بیانات میں بھی کیا جاتا رہا ہے، خصوصاً دائیں آنکھ کی کمزور بینائی کے حوالے سے۔

سرکاری بیانات اور معالجین کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج ایسے عارضے کے باعث کیا گیا جس میں آنکھوں کی شریانوں کے دباؤ میں اضافہ شامل تھا، جو پہلے سے موجود طبی مسائل سے مطابقت رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی اچانک یا من گھڑت بیماری کا نتیجہ نہیں بلکہ پہلے سے رپورٹ شدہ طبی کیفیت کا تسلسل ہے۔

مزید پڑھیں: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟

متعلقہ حلقوں نے زور دیا ہے کہ غیر مصدقہ رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی دستاویزات اور معالجین کے بیانات کو بنیاد بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں