ایک نئی فلکیاتی تحقیق کے مطابق کائنات ممکنہ طور پر تقریباً 20 ارب سال بعد ایک بڑے سکڑاؤ یعنی ‘بگ کرنچ’ کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق کارنیل یونیورسٹی کے فزکس کے ماہر ہنری ٹائی کی قیادت میں کی گئی جس میں ڈارک انرجی سروے کے بڑے ڈیٹا شامل تھے۔ محققین کے مطابق، ممکن ہے کہ ڈارک انرجی مستقل نہ ہو۔
تحقیق اور طریقہ کار
محققین نے ڈارک انرجی سروے اور ڈارک انرجی اسپیکٹروسکوپک انسٹرومنٹ کے ڈیٹا سے ایک ماڈل تیار کیا۔ اس تھیوری میں ایک ہلکی ذرات ایکسائیون اور منفی کاسمولوجیکل کانسٹینٹ شامل کیا گیا ہے۔
نیا فریم ورک اس امکان کو پیش کرتا ہے کہ ڈارک انرجی وقت کے ساتھ کم ہو سکتی ہے جبکہ روایتی ماڈل اسے مستقل قوت مانتا ہے۔
کائنات کے مستقبل کی پیشنگوئی
موجودہ حسابات کے مطابق کائنات تقریباً 11 ارب سال تک پھیلاؤ کا تجربہ کرے گی۔
اس کے بعد یہ عمل رک جائے گا اور معکوس ہونا شروع ہو گا۔
آخرکار بگ کرنچ تقریباً 33 ارب سال بعد واقع ہوگا یعنی بگ بینگ کے بعد کائنات کا حتمی سکڑاؤ۔
محتاط رہنے کی ضرورت
محققین نے واضح کیا کہ یہ پیشگوئیاں مکمل طور پر درست ہو سکتی ہیں یا نہیں اس کا درست اندازہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ ڈارک انرجی کے ڈیٹا پر یہ نتائج محتاط انداز میں دیکھے جانے چاہییں۔ یہ خیال اس نظریے کے مخالف ہے کہ کائنات مستقل طور پر پھیلتی رہے گی۔
آئندہ تحقیقات
مستقبل میں یورپی اسپیس ایجنسی کے یُوکلِڈ مشن، ناسا کے اسفیریکس پروجیکٹ اور ویرا سی۔ روبن آبزرویٹری بہتر ڈارک انرجی کی پیمائش فراہم کریں گے جس سے اس نظریے کی تصدیق یا تردید ممکن ہو سکے گی۔
نوٹ: واضح رہے کہ یہ خبر انگریزی میڈیا سے نئی تحقیق سے آپ کو آگاہ کرنے کے لیے پبلش کی جارہی ہے تاہم اس کی ایکوریسی کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہاں ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ سائنسدانوں کے ہی مطابق سورج (جو زمین پر زندگی کا سبب ہے) 5 ارب سال کے بعد ختم ہوجائے گا۔ مذکورہ تحقیق میں خاتمے کی تاریخ 20 ارب سال دی گئی ہے۔
کائنات کے حوالے سے مختلف نظریات
کائنات کے بارے میں سائنسدان مختلف نظریات پیش کرتے ہیں کہ مستقبل میں یہ کس طرح بدل سکتی ہے۔
بگ بینگ
سب سے مشہور نظریہ بگ بینگ ہے جو یہ کہتا ہے کہ کائنات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ایک بہت چھوٹے نقطے سے پھٹ کر پیدا ہوئی اور تب سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں کہکشائیں، ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔
کائنات کے اختتام کے لیے تین بڑے نظریات پیش کیے گئے ہیں
بگ کرنچ
بگ کرنچ نظریے کے مطابق اگر کائنات کی توسیع رک جائے اور کشش ثقل غالب آ جائے تو کائنات دوبارہ سکڑنے لگے گی۔ آخرکار سب ستارے، سیارے اور مادہ ایک نقطے میں جمع ہو جائیں گے یعنی کائنات مکمل طور پر سکڑ جائے گی۔
بگ فریز
بگ فریز یا ہیٹ ڈیتھ والے نظریے میں کہا جاتا ہے کہ کائنات ہمیشہ کے لیے پھیلتی رہے گی۔ ستارے ختم ہو جائیں گے، توانائی کم ہو جائے گی اور کائنات انتہائی سرد اور خالی ہو جائے گی۔ یہاں کوئی بڑا سکڑاؤ نہیں ہوگا بلکہ کائنات کی زندگی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔
بگ رِپ
بگ رِپ نظریے میں خیال ہے کہ اگر ڈارک انرجی مسلسل بڑھتی رہی تو کائنات کی توسیع اتنی تیز ہو جائے گی کہ کہکشائیں، ستارے، سیارے اور بالآخر ایٹم تک پھٹ جائیں گے، یعنی کائنات مکمل طور پر ٹوٹ جائے گی۔
ان تمام نظریات میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب اربوں یا کھربوں سالوں کے بعد ممکن ہو سکتے ہیں یعنی ابھی کے لیے یہ سب انسانوں کے لیے بہت دور کی کہانی ہے۔














