یوتھ کانگریس کارکنان کا امریکا بھارت معاہدے پر قمیض اتار کر احتجاج

جمعہ 20 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں منعقدہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کے موقعے پر اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب یوتھ کانگریس کے کارکنان نے مبینہ بھارت امریکا معاہدے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی شرٹس اتار کر مظاہرہ کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ اہم ٹیکنالوجی معاملات میں قومی مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ طے پاگیا، معاہدے سے سپلائی چین مستحکم ہوگی، نریندر مودی

انڈین یوتھ کانگریس کے کارکنان نے سمٹ کے مقام کے قریب جمع ہو کر نعرے بازی کی اور دعویٰ کیا کہ حکومت امریکا کے ساتھ ہونے والے حالیہ سمجھوتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لا رہی۔ احتجاج کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا تاکہ سمٹ کی کارروائی متاثر نہ ہو۔

یہ احتجاج ایسے وقت سامنے آیا جب بھارت عالمی سطح پر خود کو مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ امریکا سمیت مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے معاہدے سے قبل پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

مزید پڑھیے: ’میک اِن انڈیا‘ کہاں گیا؟ امریکا سے تجارتی معاہدے پر کانگریس کی تنقید

پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو حالیہ برسوں میں بھارت اور امریکا کے درمیان دفاع، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدے کیے ہیں جن میں جدید ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے شامل ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات بھارت کو عالمی سپلائی چین میں نمایاں مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

دوسری جانب اپوزیشن خصوصاً کانگریس سے وابستہ حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ غیر شفاف شرائط یا غیر متوازن معاہدے طویل مدت میں ملکی خودمختاری اور مقامی صنعت کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

احتجاج کرنے والے کارکنان کا کہنا تھا کہ وہ نوجوانوں کے مستقبل اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سمٹ کی مرکزی تقریبات سیکیورٹی انتظامات کے باوجود معمول کے مطابق جاری رہیں۔

مزید پڑھیں: مودی کے ناک رگڑنے کے بعد، ٹرمپ نے انڈیا کے لیے ٹیرف 18 فیصد کردیا

حکومتی نمائندوں نے احتجاج کو سیاسی اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور تمام معاہدے قومی مفاد کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp