کنگ سلمان ریلیف کے تحت جبوتی اور گنی میں 90 ہزار افراد کے لیے امداد کی فراہمی

ہفتہ 21 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

سعودی عرب کے شاہ سلمان انسانی ہمدردی اور امدادی مرکز (KSrelief) نے 2026 کے لیے جبوتی اور گنی میں خوراکی تقسیم کے نئے منصوبے شروع کر دیے ہیں، جن کا مقصد کمزور اور خوراک کی کمی کا شکار آبادی کی مدد کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا رمضان 2026 کے لیے پاکستان میں فوڈ باسکٹ پراجیکٹ کا آغاز

جبوتی میں سعودی سفیر مطریک الجاعلین اور مقامی حکام نے سال کے پانچویں مرحلے کا افتتاح کیا، جس کے تحت 6,715 کھانے کے باسکٹ تقسیم کیے جائیں گے، جو ملک کے مختلف علاقوں میں 40,000 افراد کے لیے معاونت فراہم کریں گے۔ گنی میں اسی طرح کا منصوبہ سعودی سفیر ڈاکٹر فہد الرشیدی کے زیر قیادت شروع کیا گیا، جس میں 8,400 خوراکی باسکٹ 50,000 افراد تک پہنچائی جائیں گی۔

کنگ سلمان 2015 سے سعودی عرب کا مرکزی انسانی ہمدردی ادارہ ہے اور اس نے اب تک 1,150 سے زائد خوراکی تحفظ کے منصوبے 2.2 ارب ڈالر سے زائد لاگت سے نافذ کیے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے 86 ممالک میں کمزور آبادی کو ضروری خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا خیبر پختونخوا میں ونٹر کِٹس کی تقسیم کا آغاز

مرکز کے دیگر انسانی ہمدردی اور ترقیاتی پروگرام چار براعظموں میں 113 ممالک تک پہنچ چکے ہیں، جس سے عالمی سطح پر خوراک کی حفاظت اور انسانی امداد کے شعبے میں سعودی عرب کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں