وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب صرف لاشیں نہیں اٹھائے گا بلکہ ہر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 4 دہشتگرد ہلاک
سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہاکہ پاکستان نے افغانستان کے 3 صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے پیچھے واضح پس منظر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بار بار افغانستان کو سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کے بارے میں آگاہ کیا گیا، تاہم دہشتگردی کے واقعات جاری رہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور تربیتی مراکز موجود ہیں، اور افغان حکومت نے طالبان کو سرحد پار دھکیلنے کے لیے پاکستان سے 10 ارب روپے طلب کیے، جس کے بدلے پاکستان نے کہاکہ وہ رقم دینے کو تیار ہے بشرطیکہ پاکستان میں مداخلت نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان نے افغانستان کے 3 صوبوں میں کارروائی کرتے ہوئے دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہونے والے حملوں کے پسِ منظر میں افغانستان کے عناصر شامل ہیں، اور دہشتگردی کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہاکہ پاکستان امن پسند ملک ہے لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی فضائیہ نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کیں اور قریباً 100 دہشتگرد مارے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد ٹھکانوں کو ختم کرنا اور ملکی دفاع کو مضبوط کرنا تھا۔
مزید پڑھیں: افغانستان میں دہشتگردوں کے 7 ٹھکانوں پر کارروائی میں 70 دہشتگرد ہلاک ہوئے، طلال چوہدری
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے افغانستان میں دہشتگرد مراکز پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے ننگرہار، پکتیکا اور خوست کے 3 صوبوں میں فتنہ الخوارج اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 7 مراکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد دہشتگرد ہلاک ہوئے۔














