سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔
تحریری فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ جب نجی فریقین خود خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل دائر کرنے کے مجاز نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس میں 8 ارب سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ محتسب ایک جج کی حیثیت رکھتا ہے، فریق نہیں، اس لیے وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا دفاع نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ محتسب ایک نیم عدالتی ادارہ ہے اور وہ کسی فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا۔ اس کی حیثیت ایک منصف کی ہے جسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی اور نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لیے اسے اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیے: مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینا اختیارات کا غلط استعمال ہے، پشاور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ
عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا قانونی حق متاثر نہیں ہوگا۔
یہ مقدمہ شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق تھا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت کیس کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا۔














