ایک سال میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان

بدھ 25 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کے باعث قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: آئی پی پیز سے نظرثانی معاہدوں کی منظوری، صارفین کو سالانہ کتنے کھرب روپوں کی بچت ہوگی؟

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے مالی سال 25-2024 کے لیے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نقصانات کی بڑی وجوہات ترسیل و تقسیم میں کمی اور بلوں کی کم وصولی رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ترسیل اور تقسیم کے نقصانات کی مد میں 265 ارب روپے جبکہ بلوں کی کم وصولی کے باعث 207 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔ اس طرح مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان قومی خزانے پر بوجھ بنا۔

یہ بھی پڑھیں: 2 ماہ میں  بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں صوبوں کے سپرد کرنے کا فیصلہ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیاں ترسیل و تقسیم کے نقصانات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ نیپرا نے بڑھتے ہوئے نقصانات اور کم وصولیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بیرون ملک جانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض، حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی

عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سینیئر اداکارہ روبینہ اشرف کا خواتین کے شوہر اور سسرالیوں کے لیے اہم پیغام

دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

حکومت سے مذاکرات ناکام، گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کردیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر