حیدرآباد کی تاریخی چوڑی گلی کے ایک تنگ کمرے میں 50 سالہ فرمیـدہ خالد تیل کے دیوں کی لو پر شیشے کی چوڑی کے دو سروں کو نہایت احتیاط سے جوڑ رہی ہیں۔
گرمی کے موسم میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر روزانہ تقریباً 3 ہزار چوڑیاں مکمل کرتی ہیں۔
پاکستان میں شیشے کی چوڑیاں نسلوں سے تہواروں کی خریداری کا لازمی حصہ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہوائی جہاز کراچی سے بذریعہ سڑک حیدرآباد روانہ، دیکھنے والے دنگ رہ گئے
رمضان المبارک کے آخری دنوں اورعیدالفطر سے قبل خواتین رنگ برنگی چوڑیوں کے سیٹ خریدتی ہیں۔
اس بڑی طلب کو پورا کرنے میں حیدرآباد کو ملک کے سب سے بڑے شیشے کی چوڑیوں کے پیداواری مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔
تاہم صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے باعث اس صنعت کا مستقبل غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔

حکومت نے 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف استحکام پروگرام کے تحت توانائی سبسڈی ختم کی، جس کے بعد ملک میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
چوڑیوں کے بھٹوں میں استعمال ہونے والی گیس کی قیمت میں غیر معمولی اضافے سے پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: حیدرآباد میں نصب اپنے مجسمے کو دیکھ کر وسیم اکرم خاموش نہ رہ سکے، سوشل میڈیا پر کیا کہا؟
حیدرآباد گلاس بینگل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر محمد سلیم خان کے مطابق گزشتہ 2 برسوں میں گیس کی قیمت میں 92 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 2,300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہے۔
ان کے بقول صنعت پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ غیر رجسٹرڈ تھوک فروشوں پر مزید 4 فیصد ٹیکس بھی عائد ہے، یوں مجموعی طور پر ٹیکس کا بوجھ 22 فیصد بنتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جو چوڑیاں پہلے 50 روپے میں تیار ہو جاتی تھیں، اب وہ مارکیٹ میں 500 روپے تک فروخت ہو رہی ہیں، جبکہ اعلیٰ ڈیزائن کی قیمت 1,000 سے 2,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق تقریباً 10 ارب روپے مالیت کی یہ صنعت حیدرآباد میں 2 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے اور ملک بھر کے علاوہ افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال اور خلیجی ممالک کو برآمدات بھی کرتی ہے۔
صنعت نصف استعداد پر
چوڑی گلی جہاں کبھی بھٹوں کی گونج سنائی دیتی تھی، اب کئی ورکشاپس بند ہو چکی ہیں۔ صنعت اس وقت تقریباً 50 فیصد استعداد پر چل رہی ہے اور عید جیسے سیزن میں بھی پیداوار تقریباً ایک لاکھ گچھوں تک محدود ہو گئی ہے۔
روایتی طور پر شعبان اور رمضان پیداوار کے عروج کے مہینے ہوتے تھے جب کارخانے 70 فیصد استعداد پر کام کرتے تھے، مگر اس سال مہنگائی اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت میں رکاوٹوں کے باعث پیداوار 30 فیصد تک گر گئی ہے۔

مزدوروں کو بھی کم شفٹیں اور کم آمدنی کا سامنا ہے، فرمیـدہ خالد کہتی ہیں کہ سردیوں میں کام اور گیس دونوں کم ملتے ہیں جبکہ گرمیوں میں کچھ بہتری آتی ہے۔
النـعیم گلاس ورکس کے 30 سالہ کارکن اسلام دین روزانہ 12 گھنٹے کی شفٹ میں تقریباً 1,500 چوڑیاں تیار کرتے ہیں، مگر ان کے مطابق فیکٹری کئی ہفتوں تک بند بھی رہتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مشکلات ضرور ہیں مگر گزارا کسی نہ کسی طرح ہو رہا ہے کیونکہ کوئی اور ذریعہ معاش نہیں۔
خریداروں کا رجحان بدل گیا
ملک میں مہنگائی کی شرح مئی 2023 میں 38 فیصد کی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔ اگرچہ اب یہ کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے، لیکن عوام کی قوت خرید اب بھی متاثر ہے۔
صنعت کاروں کے مطابق سستی دھاتی چوڑیوں نے ملک بھر میں 50 فیصد سے زائد مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے کیونکہ شیشے کی چوڑیاں نسبتاً مہنگی ہو گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: حیدرآباد میں 5 سالہ بچہ رپٹ لکھوانے تھانے پہنچ گیا، شکایت کیا کی؟
تھوک فروش محمد عمران شیخ کا کہنا ہے کہ پہلے ماہانہ آرڈر 2 ہزار ڈبوں تک پہنچ جاتے تھے، مگر اب 100 سے 700 ڈبوں کے چھوٹے آرڈرز ہی ملتے ہیں۔
محمد سلیم خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی قیمت کم از کم 35 فیصد کم کر کے 1,500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی جائے اور ٹیکسوں میں بھی کمی کی جائے۔
ان کے مطابق اگر ریلیف نہ دیا گیا توچوڑیوں کی یہ صنعت بتدریج بند ہو جائے گی۔














