اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی 190 ملین پونڈ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست قبول کر لی ہے۔ عدالت نے سماعت کے لیے 11 مارچ 2026 کی تاریخ مقرر کی اور تیز کارروائی کا طریقہ کار بھی منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:انٹرپول نے القادر ٹرسٹ کیس میں شہزاد اکبر کو کلیئر کردیا
عدالت کے بنچ کی سربراہی جسٹس خادم سومرو نے کی۔ دفاع کی جانب سے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات بے بنیاد تھے۔ ابتدائی طور پر پرانا وکالت نامہ چیلنج کیا گیا لیکن بعد میں اسے قبول کر لیا گیا۔ دیگر اعتراضات دستاویزات کی ترتیب اور مخصوص صفحات سے متعلق تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس سومرو نے سوال کیا کہ تکنیکی مسائل حل نہ ہونے کے باوجود کیس کیوں فہرست میں شامل کیا گیا، تاہم دفاع کو باقی دستاویزات کی اصلاح کے لیے 7 دن کا وقت دے دیا گیا۔

عدالت نے ہلکے پھلکے انداز میں وکیل کو ہدایت کی کہ صفحات کی درست نشاندہی کریں۔ عدالت نے مرکزی درخواست کے ساتھ جمع کروائی گئی دیگر ذیلی درخواستیں بھی منظور کر لی ہیں۔
وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ پہلی سماعت پر درخواست خالی ہاتھ واپس نہ جائے، جس کے بعد عدالت نے اسے باضابطہ سماعت کے لیے قبول کر لیا۔ اب عمران خان کی سزا معطلی پر تفصیلی دلائل مارچ کی دوسری ہفتے میں سنے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:القادر ٹرسٹ میں سزا معطلی کا امکان مگر توشہ خانہ 2 کیس فیصلہ کن مرحلے میں، کیا عمران خان رہا ہو پائیں گے؟
یہ کیس پی ٹی آئی کے بانی کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے اور القادر ٹرسٹ کیس کی قانونی جنگ کا مرکز ہے۔














