امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر امریکی حملے سے قبل اسرائیل اور سعودی عرب کی جانب سے واشنگٹن میں لابنگ کی گئی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان فہد ناظر نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور غلط قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ ایران کے حوالے سے سفارتی حل اور قابل اعتبار معاہدے کی حمایت کی ہے اور کسی بھی مرحلے پر امریکی صدر کو مختلف یا جارحانہ پالیسی اپنانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
سعودی مؤقف ہے کہ ریاض کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کشیدگی میں کمی، مذاکرات، علاقائی استحکام اور مسلم دنیا میں اتحاد کا فروغ ہے۔ اس دعوے کی تائید تاریخ کے مختلف ادوار میں سعودی کردار سے بھی ہوتی ہے، جہاں ریاض نے سفارتی، انسانی اور مالی سطح پر متعدد مسلم ممالک کی مدد کی۔
لبنان: معاہدہ طائف اور خانہ جنگی کا خاتمہ (1989)
لبنان کی طویل خانہ جنگی کے خاتمے میں سعودی عرب کا کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اکتوبر 1989 میں سعودی شہر طائف میں لبنانی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات منعقد ہوئے، جن کے نتیجے میں معاہدہ طائف طے پایا۔ اس معاہدے نے لبنان کے سیاسی ڈھانچے میں اصلاحات اور طاقت کے توازن کو نئی شکل دی اور اسے خانہ جنگی کے خاتمے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات میں اس معاہدے کی تفصیل موجود ہے، جو سعودی میزبانی میں طے پایا۔
انڈونیشیا اور 2004 سونامی: عالمی سطح پر انسانی امداد (2004)
2004 کے انڈین اوشن سونامی کے بعد سعودی عرب نے انڈونیشیا اور دیگر متاثرہ ممالک کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد فراہم کی۔ انسانی امدادی رپورٹس میں سعودی تعاون کا ذکر موجود ہے، جسے عالمی سطح پر فوری ردعمل کے طور پر سراہا گیا۔
فلسطین: مکہ معاہدہ اور داخلی اتحاد کی کوشش (2007)
فروری 2007 میں مکہ مکرمہ میں فلسطینی سیاسی دھڑوں کے درمیان ہونے والا مکہ معاہدہ بھی سعودی ثالثی کی اہم مثال ہے۔ اس معاہدے کا مقصد داخلی تصادم کو روکنا اور قومی وحدت کی حکومت کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اقوام متحدہ کے امن آرکائیوز میں اس معاہدے کی دستاویز محفوظ ہے، جو سعودی عرب کی مفاہمتی سفارتکاری کو ظاہر کرتی ہے۔
اردن: معاشی استحکام کے لیے اربوں ڈالر کی معاونت (2018)
جون 2018 میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت نے اردن کو ڈھائی ارب ڈالر کے معاشی پیکج پر اتفاق کیا، جس میں مرکزی بینک میں ڈپازٹ اور بجٹ سپورٹ شامل تھی۔ بعد ازاں 2024 میں سعودی عرب نے اردن کے لیے مزید 250 ملین ڈالر کی قسط مکمل کی۔ عرب میڈیا اور سرکاری ذرائع کے مطابق اس امداد کا مقصد اردن کی اقتصادی مشکلات میں کمی اور مالی استحکام کو تقویت دینا تھا۔
سوڈان: جدہ مذاکرات اور جنگ بندی کی کوششیں (2023)
2023 میں سوڈان میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سعودی عرب نے امریکا کے ساتھ مل کر جدہ میں مذاکرات کی میزبانی کی۔ ان مذاکرات کا مقصد جنگ بندی، انسانی امداد کی رسائی اور کشیدگی میں کمی تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ان مذاکرات کو خطے میں استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
ترکی اور شام: زلزلہ متاثرین کے لیے فوری امداد (2023)
فروری 2023 کے تباہ کن زلزلے کے بعد سعودی عرب نے ترکی اور شام کے لیے فوری امدادی ایئر برج قائم کیا۔ سرکاری بیانات کے مطابق امدادی طیاروں کے ذریعے خوراک، طبّی سامان، خیمے اور دیگر ضروریات متاثرین تک پہنچائی گئیں۔ یہ اقدام خطے میں انسانی یکجہتی کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
فلسطین (غزہ): انسانی ایئر برج اور مسلسل امداد
غزہ کی صورتحال کے دوران سعودی عرب نے انسانی امداد کے لیے ایئر برج قائم کیا، جس کے تحت متعدد امدادی پروازیں خوراک، طبّی سامان اور دیگر ضروری اشیا لے کر روانہ کی گئیں۔ سعودی امدادی ادارہ KSRelief کے مطابق فلسطینی عوام کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد مختص کی گئی اور 2026 تک امدادی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔
پاکستان: مالی استحکام اور اسٹریٹجک تعاون
پاکستان کے ساتھ سعودی تعاون کی مثالیں بھی نمایاں ہیں۔ 2022 میں سعودی عرب نے پاکستان کے مرکزی بینک میں موجود 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی۔ اس کے علاوہ تیل کی ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی، جس سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اور معاشی استحکام کو سہارا ملا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بیانات میں اس تعاون کی تفصیل موجود ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے تناظر میں سعودی سفارتخانے کی تردید نے واضح کیا ہے کہ ریاض کی پالیسی کشیدگی کو بڑھانے کی نہیں بلکہ سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔ لبنان سے فلسطین، سوڈان سے اردن، غزہ سے ترکی و شام، پاکستان سے انڈونیشیا تک مختلف مواقع پر سعودی عرب کا کردار اس بات کی مثال پیش کرتا ہے کہ وہ خود کو مسلم دنیا میں اتحاد، مفاہمت، انسانی امداد اور معاشی استحکام کا حامی قرار دیتا ہے۔














