برطانیہ میں کورونا وبا کے دوران جعلی کوویڈ 19 ویکسین پاسپورٹس فروخت کرنے کے الزام میں 4 افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کوویڈ کی نئی قسم نے دنیا میں سر اٹھانا شروع کردیا
برطانوی حکام کے مطابق 36 سالہ کرسٹوفر تھامسن (ہوردن)، 33 سالہ شاہد حسین (مڈلزبرو)، 42 سالہ ایان ٹیلر اور 25 سالہ ایبی-لی کوٹس (دونوں ڈارلنگٹن) کو نیشنل کرائم ایجنسی کے اہلکاروں نے سال 2022 اور سال 2023 کے اوائل میں گرفتار کیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مجموعی طور پر 1,168 جعلی ویکسینیشن ریکارڈز تیار کیے اور انہیں عوام کو فروخت کر کے 2 لاکھ پاؤنڈ سے زائد رقم حاصل کی۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر پال فوسٹر نے کہا کہ ویکسین لگوانا اگرچہ ایک ذاتی انتخاب ہو سکتا ہے تاہم صحت کے نظام کا غلط استعمال کر کے غیر ویکسین شدہ افراد کو پابندیوں سے بچنے کا موقع دینا غیر قانونی عمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مشترکہ تحقیقات این ایچ ایس انگلینڈ کی کاؤنٹر فراڈ ٹیم کے تعاون سے کی گئیں جس کا مقصد قومی وبائی ردعمل کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنا اور کمیونٹی کو محفوظ بنانا تھا۔
مزید پڑھیے: دنیا میں زچگی کی اموات میں اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟
ایجنسی کے مطابق وبا کے دوران غیر ویکسین شدہ افراد نے آن لائن غیر قانونی مارکیٹ پلیسز سے حاصل کیے گئے مستند ویکسین پاسپورٹ ریکارڈز کے عوض رقم ادا کی۔
پولیس کو شبہ ہے کہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس نے بعض طبی پیشہ ور افراد کو بھرتی کر کے جعلی ریکارڈ تیار کروائے جس سے غیر ویکسین شدہ افراد کو سفری پابندیوں کے باوجود سفر کی اجازت مل جاتی تھی۔
حکام کے مطابق چاروں ملزمان نے جون 2021 سے جنوری 2022 کے درمیان جعلی پاسپورٹس فروخت کیے جن میں سے بعض مبینہ طور پر ڈارلنگٹن کے ایک ہیلتھ سینٹر میں تیار کیے گئے۔
مزید پڑھیں: کورونا وبا کے باعث دنیا میں اوسط عمر کتنی گھٹ گئی؟
چاروں افراد پر کمپیوٹر میوز ایکٹ اور فراڈ ایکٹ کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں اور انہیں پیٹرلی مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔














