وفاقی آئینی عدالت نے رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے معاملہ دوبارہ فیصلے کے لیے لاہور ہائیکورٹ کو بھیجتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ہائیکورٹ اس معاملے پر 90 دن کے اندر نیا فیصلہ کرے۔
کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے رہائشی پلاٹس کو کمرشل کرنے کے رجحان پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے سے شہر کی تباہی ہو جاتی ہے۔
سماعت کے دوران عدالت میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب وکیل کے منشی نے عدالت سے مخاطب ہونے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: آئین کی تشریح شفافیت، آزادی اور دیانت کے ساتھ کی جائے گی، چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب وکیل صاحب کھڑے ہیں تو ان کی بات کرنے کی ہمت کیسے ہوئی، کیا وہ درخواست گزار ہیں۔
جس پر منشی نے جواب دیا کہ وہ وکیل صاحب کے معاون ہیں۔
عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا وہ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں، معاون ہیں یا وکیل صاحب کے منشی، جس پرانہوں نے تسلیم کیا کہ وہ وکیل کے منشی ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا
بعد ازاں وکیل نے عدالت سے اس غلطی پر معذرت کر لی۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ پرانے بڑے شہروں میں رہائشی پلاٹس کمرشل میں تبدیل نہیں ہوتے، ایک گھر میں 5 سے 6 افراد رہتے ہیں، لیکن جب پلاٹ کمرشل میں تبدیل ہو جاتا ہے تو وہاں پورا بازار قائم ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سائلین کی سہولت کے لیے آئینی عدالت کا بڑا اقدام، چاروں صوبوں میں آئینی ڈیسک قائم
جسٹس رضوی نے مزید کہا کہ کراچی میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے کے نتائج آج بھی بھگتے جا رہے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ معاملے کے قانونی اور شہری اثرات کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے، اسی لیے کیس کو دوبارہ سماعت اور فیصلہ کے لیے لاہور ہائیکورٹ کو بھیجا جا رہا ہے۔














