ای او بی آئی کرپشن کیس: جائیدادوں کی قیمتوں اور حل کے لیے قابل عمل تجویز طلب

بدھ 17 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ای او بی آئی کرپشن کیس کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ای او بی آئی کیس کے گناہ و ثواب میں ہم سب شریک ہیں۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران جسٹس امین الدین خان نے سوال اٹھایا کہ 2013 سے جاری اس کیس میں درپیش مسئلے کا حل کیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ تمام فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کیا جائے گا اور اس وقت عدالت میں کوئی جانبداری نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کی سونیا سے عائشہ بننے والی خاتون کیس کا فیصلہ، وفاقی آئینی عدالت نے والدین کی حوالگی کی درخواست خارج کردی

سابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر گوندل عدالت میں پیش ہوئے تاہم انہوں نے مؤقف اپنایا کہ ان کے وکیل موجود نہیں، اس لیے ان کا موقف سنے بغیر فیصلہ نہ کیا جائے۔

سماعت کے دوران وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمہ ازخود نوٹس کے تحت شروع ہوا تھا۔ ان کے مطابق ای او بی آئی نے 18 جائیدادیں اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ نرخ پر خریدیں۔

عدالت کے حکم پر ان جائیدادوں کی قیمتوں کا تخمینہ بھی لگایا گیا۔

مزید پڑھیں: غلط سرجری کیس: وفاقی آئینی عدالت کا پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اور سرجن کو نوٹس جاری

بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ استغاثے کے مطابق مال روڈ لاہور کا ایک پلاٹ 790 ملین روپے میں خریدا گیا، جبکہ تخمینے کے مطابق اس کی اصل مالیت 540 ملین روپے تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک مؤکل کے مطابق اسی پلاٹ کی موجودہ قیمت 2300 ملین روپے تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ای او بی آئی اب کچھ جائیدادیں اپنے پاس رکھنا اور کچھ واپس کرنا چاہتا ہے، جبکہ ان کے مؤکل کو کہا جا رہا ہے کہ وہ پلاٹ بھی واپس کرے اور اضافی وصول شدہ رقم بھی ادا کرے۔

مزید پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ

سماعت کے دوران بیرسٹر علی ظفر نے دلچسپ انداز میں کہا کہ اگر پلاٹ واپس کر دیا جائے تو وہ خوشی سے چھلانگیں ماریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جن حالات میں کیس شروع ہوا تھا اس وقت جائیدادوں کی قیمتیں مختلف تھیں اور اب عدالت تمام فریقین کو قابل عمل حل تجویز کرنے کی ہدایت کرتی ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے آئندہ سماعت تک قابل عمل حل پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp