ایران پر ہونے والے حملوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس وقت عالمی ہوائی سفر کو بری طرح متاثر کیا ہوا ہے۔
28 فروری سے شروع ہونے والے اس بحران کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے اہم فضائی راستے بند ہیں، جس سے لاکھوں مسافر اور ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔
اس صورت حال کے پیش نظر ہفتہ سے اب تک پاکستان سے دبئی، ابوظہبی، دوحہ، مسقط اور ریاض سمیت مشرقِ وسطیٰ کے لیے تقریباً 184 سے زائد بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔
مجموعی طور پر متاثرہ پروازوں کی تعداد 500 تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل
ترجمان پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق پاکستان کی جانب رخ موڑنے والی پروازوں کی اکثریت نے کراچی لینڈ کیا تھا، تاہم ایندھن بھرنے یا ضروری آرام کے بعد ان کی اکثریت پہلے ہی روانہ ہو چکی ہیں۔
متعلقہ ایئر لائنز نے اپنے مسافروں کے لیے ان کی اصل یا اگلی منزلوں تک پہنچانے کے لیے متبادل پروازوں کا مؤثر انتظام کر لیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت طیاروں کی ایک معمولی تعداد پارکنگ میں موجود ہے، پشاور میں ایئر عربیہ کا ایک طیارہ باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کھڑا ہے، جس کی آج سہ پہر 3:00 بجے روانگی شیڈول ہے۔
اسی طرح ایئر عربیہ کا ایک طیارہ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ہے، جو آج شام 6:00 بجے روانہ ہوگا۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں فضائی بحران، پاکستان سے 155 پروازیں آج بھی منسوخ
’کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 3 طیارے پارک کیے گئے ہیں، جن میں 2 ایئر عربیہ کے A320 اور قطر ایئرویز کا ایک B777 طیارہ شامل ہے، گلف ایئر کا ایک A320 طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پارک ہے۔‘
ترجمان پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق، قبل ازیں رخ تبدیل کرنے والی پروازوں کے مسافروں کو متعلقہ ایئر لائنز کی جانب سے ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا تھا اور انہیں اگلی پروازوں پر بک کر دیا گیا ہے، مسافروں کے پھنسے ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
’پاکستان کی اپنی فضائی حدود مقامی پروازوں کے لیے کھلی ہے، تاہم مغربی ایشیا کی طرف جانے والے راستے بند یا انتہائی پرخطر قرار دیے گئے ہیں۔‘
28 فروری کے دن اچانک فضائی حدود بندش سے پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی 27 پروازوں کے طیاروں نے کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی، اس میں طیاروں کی ٹیکنیکل لینڈنگ، ڈائیورژن اور ری روٹ شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ: خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند، پروازیں معطل، مسافروں کو ہدایات جاری
ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق تھائی ایئر کے67 سے زائد مسافروں کو چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے ان کی منزل مقصود پر روانہ کیا گیا۔
غیر ملکی ایئرلائنوں کے طیاروں کی کراچی ایئرپورٹ آمد اور پارکنگ سے پی اے اے کوپارکنگ فیس کی مد میں ہزاروں ڈالر کا ریونیو بھی حاصل ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی ایئرلائنز کے 2 طیارے 3 دن سے متحدہ عرب امارات میں پھنسے ہوئے ہیں، ایک ایئربس 320 طیارہ پی آئی اے اور دوسرا ایئربس طیارہ ایئر سیال کا ہے۔
دونوں طیارے فضائی حدود کی بندش کے باعث پاکستان کے لیے روانہ نہیں ہوسکے، بیشتر مسافروں کو ایئرلائن کی جانب سے ہوٹل منتقل کیاگیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کی فضائی حدود عارضی طور پر بند، امریکی حملے کے خدشات میں اضافہ
مختلف ممالک کی فضائی حدود مسلسل بند ہونے سے ہزاروں پروازیں متاثر، لاکھوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔
28 فروری کو مختلف ممالک کی فضائی حدود بندش سے سری لنکن ایئرلائن کی پرواز کا رخ کراچی ایئرپورٹ کی جانب موڑا گیا۔
سری لنکن ایئر کے گزشتہ روز 70 سے زائد ٹرانزٹ فلائٹ کے مسافروں میں 10 بھارتی مسافر تھے، کراچی ایئرپورٹ پر چند دن سے پھنسے ان بھارتی شہریوں کو روانہ کردیا گیا۔
’تمام بھارتی مسافر سری لنکن ائیرلائن کی پرواز سے روانہ ہوئے، یہ تمام مسافر سری لنکن ایئرلائن کی ٹرانزٹ فلائٹ کے تھے۔ ان میں ایک بھارتی مسافر ایئرلائن کا کریو ممبر بھی تھا۔‘














