ایران کی جانب سے فضائی حدود کو محدود کیے جانے اور کمرشل پروازوں کے بڑے پیمانے پر رخ موڑنے کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تمام اشارے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا جوہری مذاکرات منسوخ، عمان نے تصدیق کردی
رائٹرز کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر صرف اجازت یافتہ بین الاقوامی پروازوں تک محدود کر دیا ہے۔ فلائٹ ریڈار 24 کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری ابتدائی طور پر چند گھنٹوں کے لیے جاری کی گئی، تاہم اس دوران متعدد ایئرلائنز نے ایران کے اوپر سے گزرنے والی پروازیں معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دیں۔
Iran closed its airspace after reports of a possible US attack.
Several flights to and from Uzbekistan returned to airports.#IranProtests #Geopolitics #CryptoTrends pic.twitter.com/RBjwdgmQ5B
— Ares MeMcoin TraDeR! (@lBullBearl) January 15, 2026
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک مغربی فوجی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ امریکا کا ایران پر حملہ قریب ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کی غیر متوقع حکمتِ عملی بھی دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ ہو سکتی ہے۔
2 یورپی حکام کے مطابق امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے، جب کہ ایک اسرائیلی عہدیدار نے عندیہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اگرچہ اس کی نوعیت اور وقت واضح نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا سے معاہدہ کرنے کے لیے ’بے تاب‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کے خدشے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے فوجی اڈوں سے کچھ عملہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ایک سینیئر ایرانی عہدیدار کے بیان کے بعد یہ اقدام کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
Very telling picture as Iran effectively shuts down its airspace. Just 2 planes are over the entire country right now – both Mahan Air planes headed back to Tehran from Bangkok and Guangzhou. pic.twitter.com/lCbMh2QJ59
— Fraser Jackson (@FrazJ) January 14, 2026
فضائی سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف تنازعات میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات شہری ہوابازی کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ او پی ایس گروپ کے مطابق کئی ایئرلائنز نے ایران کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں، جب کہ بیشتر کیریئرز ایرانی فضائی حدود سے گریز کر رہے ہیں۔
بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی اچانک فضائی حدود بند ہونے سے اس کی بعض بین الاقوامی پروازیں متاثر ہوں گی۔ روسی ایئرلائن ایرو فلوٹ کی تہران جانے والی ایک پرواز کو فضائی حدود کی بندش کے بعد واپس ماسکو موڑ دیا گیا۔ جرمنی نے بھی اپنی ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود میں داخل نہ ہونے کی نئی ہدایات جاری کی ہیں، جب کہ لفتھانزا، ترکش ایئرلائنز اور فلائی دبئی سمیت کئی کمپنیوں نے ایران کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی فضائی حدود کا خالی ہونا عموماً کسی ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل دیکھا جانے والا اہم اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا کوئی فوری فائدہ دکھائی نہیں دیتا، بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی منڈی، شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کے اطاعت کے مطالبے کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا رہے گا، آیت اللہ خامنائی
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جب کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی مظاہرین کے لیے دیے گئے بیانات اور سخت انتباہات نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔












