پاکستان کے تجارتی خسارے میں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اب بڑھ کر 25.04 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
ادارہ شماریات کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تجارتی خسارہ 20.04 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی تجارتی پوزیشن پر سالانہ بنیاد پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کے 4 ماہ میں تجارتی خسارہ 38 فیصد بڑھ گیا
تجارت کے خسارے میں اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی رہی۔
پہلے 8 ماہ میں برآمدات 20.46 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 22.07 ارب ڈالر کے مقابلے میں 7.3 فیصد کم ہیں.
جبکہ درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 45.50 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے 42.11 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں: مالی سال 2025 میں وفاقی خسارہ کم ہو کر 7.1 ٹریلین روپے رہا، وزارت خزانہ کا دعویٰ
فروری 2026 میں ملک کی برآمدات 2.27 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال فروری کے 2.49 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.8 فیصد کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔
جبکہ درآمدات 5.25 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ سال فروری کے 5.34 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔
اس طرح فروری کے مہینے میں تجارتی خسارہ 2.98 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو فروری 2025 کے 2.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں 4.6 فیصد زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟
ادارہ شماریات کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق ماہانہ بنیاد پر بھی خسارہ بڑھا اور جنوری 2026 میں ریکارڈ ہونے والے 2.75 ارب ڈالر کے مقابلے میں 8.4 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ اعداد و شمار ملک کی تجارتی پوزیشن پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور معاشی چیلنجز کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔














