وسائل کی قلت: غزہ کے ماہی گیر ملبے سے ملنے والے دروازوں کے فریموں سے کشتیاں مرمت کرنے پر مجبور

ہفتہ 6 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

غزہ میں جاری شدید مشکلات کے دوران وہاں کے ماہی گیروں نے اپنے روزگار کو بچانے کے لیے ایک انوکھا اور کٹھن راستہ اختیار کرلیا ہے۔

ایک ورکشاپ میں ماہی گیروں کا ایک گروپ ملبے سے نکالے گئے لکڑی کے ٹکڑوں، پرانے دروازوں کے فریموں اور پرانے فائبر گلاس کی مدد سے تفریحی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی چھوٹی کشتیوں (ڈنگیوں) کی مرمت کررہا ہے تاکہ انہیں سمندر میں اتار کر روزی روٹی کا ذریعہ بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بھوک کا بحران اسرائیل نے جان بوجھ کر پیدا کیا، ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز

جنگ سے پہلے یہ چھوٹی کشتیاں عام طور پر خاندانوں اور تیراکوں کے استعمال میں تھیں، لیکن اب یہ غزہ کی ماہی گیری کی صنعت کے لیے زندگی کی آخری امید بن چکی ہے۔

ماہی گیروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نئے فائبر گلاس اور دیگر ضروری سامان لانے پر عائد سخت پابندیوں کی وجہ سے مچھلیاں پکڑنے والی بڑی اور مخصوص کشتیوں کی مرمت انتہائی مشکل اور مہنگی ہو چکی ہے۔

ایک مقامی ماہی گیر محمد الحسی نے بتایا کہ جنگ سے پہلے 1 کلو فائبر گلاس 50 سے 60 شیکل میں مل جاتا تھا، لیکن آج اس کی قیمت بڑھ کر تقریباً 800 شیکل تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب، غزہ میں رسائی کو کنٹرول کرنے والے اسرائیلی فوجی ادارے کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایسی اشیا کو روکنا ہے جو سویلین کے ساتھ ساتھ فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ہزار سے زائد ربیوں کا اسرائیل پر بھوک کو ہتھیار بنانے کا الزام، غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ سے پہلے بھی غزہ کے ماہی گیروں پر سمندر میں جانے کی سخت حد مقرر تھی، لیکن اب گزشتہ سال ہونے والی جنگ بندی کے باوجود فائرنگ کے ڈر سے وہ ساحل کے بالکل قریب ہی رہنے پر مجبور ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ بحریہ سمندری سیکیورٹی کی پابندیوں کو نافذ کر رہی ہے اور خلاف ورزی پر مروجہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

غزہ فشر مین سنڈیکیٹ کے رکن زکریا بیکر کے مطابق، ان کڑی پابینڈوں اور نامساعد حالات کے باعث مچھلیوں کی کل پیداوار اب گر کر ماہانہ 15 ٹن سے بھی کم رہ گئی ہے، جبکہ جنگ سے پہلے ماہی گیر روزانہ اتنی مقدار میں مچھلیاں پکڑ لیا کرتے تھے۔

 جنگ بندی کے بعد اگرچہ بھوک کا بحران کسی حد تک کم ہوا ہے، لیکن امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اب بھی بچوں کو متوازن غذا دستیاب نہیں ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق اپریل کے مہینے میں ہی 3,500 بچوں کو غذائی قلت کے علاج کے لیے اسپتالوں میں داخل کرنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل غزہ میں بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا دعویٰ

 کشتیاں مرمت کرنے والے ایک کارکن مصعب بیکر کے مطابق وہ ماہی گیروں کی ہر ممکن مدد کی کوشش کررہے ہیں، لیکن سامان کی عدم دستیابی کے باعث وہ صرف چھوٹی کشتیوں کی ہی مرمت کرنے کے قابل ہیں اور بڑی کشتیاں بے کار پڑی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

بلوچستان کی بیٹی عائشہ بلوچ کا بڑا کارنامہ، ایشین گیمز میں بھارتی ریسلر کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا

نیشنل جونیئر اسکواش چیمپیئن شپ: خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں نے میدان مار لیا

مدینہ منورہ: مسجد نبویؐ کی لائبریری حج کے بعد آنے والے زائرین کے لیے علم و تحقیق کا مرکز بن گئی

عاصم اظہر کا انوکھا تجربہ: پرانے گیت کی نئی ویڈیو میں خاتون کے بجائے ایک مختلف تصور پیش کردیا

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے