اقوامِ متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان (یوناما) نے پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں افغانستان میں مبینہ شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنا بیان جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے افغانستان میں بگرام ایئر بیس پر فضائی حملے
بیان میں تمام فریقین سے تحمل اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی تاہم ہلاکتوں سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق یا طریقۂ کار کی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
تنقیدی نکات
یوناما کی جانب سے جاری بیان کو بعض حلقے طالبان ذرائع ابلاغ کے بیانیے سے مماثل قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق پریس ریلیز میں 42 ہلاکتوں، 104 زخمیوں، 16,400 خاندانوں کی بے دخلی اور 160,000 افراد پر ورلڈ فوڈ پروگرام کی سرگرمیوں میں تعطل کے اثرات جیسے اعداد و شمار تو پیش کیے گئے مگر ان دعوؤں کے شواہد اور تصدیقی طریقۂ کار واضح نہیں کیا گیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نصیحت کرنے سے قبل یوناما کو ان حقائق کا بھی حوالہ دینا چاہیے تھا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم سمیت دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس میں درج ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق افغانستان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز بعض دہشتگرد گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے رپورٹنگ نظام کے مطابق ٹی ٹی پی کے تقریباً 6,000 جنگجو موجود ہیں، جنہیں مبینہ طور پر لاجسٹک اور آپریشنل معاونت حاصل ہے۔ تاہم یوناما کے حالیہ بیان میں ان پناہ گاہوں یا دہشت گرد ڈھانچے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے عمل میں سہولت کاری کر رہے ہیں، چینی وزارت خارجہ
مانیٹرنگ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ رپورٹنگ مدت کے دوران ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے ہوئے جن میں افغان سرزمین سے کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔
مزید برآں بعض رپورٹس میں مالی معاونت اور مشرقی افغانستان کے مختلف علاقوں میں تربیتی مراکز کے قیام کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان میں 2024 کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں 1,081 اموات ہوئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں سے 558 ہلاکتیں صرف ٹی ٹی پی کے 482 حملوں میں ہوئیں، جو مجموعی اموات کا 52 فیصد بنتی ہیں۔
ناقدین کے مطابق دہشتگرد گروہوں اور ان کے معاونین کا نام لیے بغیر ’انسانی ہمدردی‘ کا بیانیہ ادھورا رہتا ہے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (پپس) کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 521 دہشت گرد حملوں میں 852 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2025 میں 699 حملوں میں 1,034 افراد جان سے گئے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان اپنے متاثرین کو دفناتا رہا جبکہ کابل کی جانب سے الزامات کی تردید جاری رہی اور یوناما کے بیانات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی۔
Statement: UNAMA reiterates its call for a halt in cross-border clashes between Afghan de facto security forces & Pakistani security forces, which is worsening #Afghanistan’s already grave humanitarian situation. Full statement (in English, Dari, Pashto): https://t.co/WPBnAzyKNR pic.twitter.com/mPr4lYbx5q
— UNAMA News (@UNAMAnews) March 3, 2026
یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ پاکستان نے دہائیوں تک 40 سے 60 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے، اس لیے اخلاقی تنقید میں توازن اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان غیر مصدقہ دعوؤں اور شہری ہلاکتوں کی کسی بھی بالواسطہ نسبت کو مسترد کرتا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائیاں انٹیلی جنس بنیادوں پر، محدود اور مخصوص دہشتگرد کیمپوں اور ٹھکانوں تک مرکوز تھیں اور شہریوں و غیر جنگجوؤں کو نقصان سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی دہشتگردی کے باعث ہزاروں جانوں کا نقصان ہو چکا ہے اور سرحد پار موجود پناہ گاہوں پر خاموشی ناقابلِ دفاع ہے۔ اگر یوناما اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے قابلِ تصدیق شواہد، شفاف طریقۂ کار اور آزادانہ توثیق کے ساتھ رپورٹنگ کرنی ہوگی، نیز دہشتگرد ڈھانچے کی واضح نشاندہی اور پناہ گاہوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی، شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد
بصورتِ دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گرد کیمپوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔














