امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی فضائی برتری کے باوجود ایران کے کچھ میزائل اور ڈرون حملے اپنے اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔ پینٹاگون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی نظام مضبوط بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا جوہری مذاکرات: ثالث عمان مزید پیشرفت کے لیے پر امید
ان کا کہنا تھا کہ مکمل تحفظ ممکن نہیں، تاہم حملے سے قبل زیادہ سے زیادہ دفاعی اقدامات یقینی بنائے گئے تھے۔ مشترکہ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین نے بھی خبردار کیا کہ امریکی فوجی اب بھی خطرے میں ہیں اور صورتحال بدستور سنگین ہے۔
حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ ایک ایرانی ڈرون حملے میں کویت کی ایک بندرگاہ پر قائم آپریشن سینٹر کو نشانہ بنایا گیا جس میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔
وزیر دفاع نے عندیہ دیا کہ یہ جنگ 4 سے 8 ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کے پاس طویل جنگ کے لیے اسلحہ اور وسائل موجود ہیں۔
مزید پڑھیں:ایران امریکا تک مار کرنے والے میزائل تیار کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ فوجی مہم ممکنہ طور پر 4 سے 5ہفتے جاری رہ سکتی ہے لیکن ضرورت پڑنے پر اس سے زیادہ عرصہ بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔
ادھر تہران نے خطے میں فوجی اور اقتصادی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی میں فوری کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔














