ایران امریکا جوہری مذاکرات: ثالث عمان مزید پیشرفت کے لیے پر امید

جمعرات 26 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری تنازع پر جاری مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک عمان نے امید ظاہر کی ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت میں مزید پیشرفت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات میں مثبت پیشرفت، معاہدے کے لیے رہنما اصولوں پر اتفاق

عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں جانب سے مثبت اور تخلیقی خیالات کا تبادلہ کیا گیا ہے اگرچہ امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش برقرار رکھی ہے۔

ایران نے جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات سے قبل عندیہ دیا تھا کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرے گا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو رعایتیں نہ دینے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں۔

عمانی وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ مذاکرات کے تیسرے دور کے آغاز کے بعد فریقین نے وقفہ لیا ہے اور بات چیت دن میں بعد ازاں دوبارہ شروع ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں مزید پیش رفت کی امید ہے تاہم تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

بیلسٹک میزائل بڑا مسئلہ قرار

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ ایران کا اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت سے انکار ایک “بڑا مسئلہ” ہے، جسے بالآخر حل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ میزائل امریکا کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ مذاکرات کا محور صرف جوہری معاملات اور پابندیوں کے خاتمے تک محدود رہے گا اور تہران سنجیدگی اور لچک کے ساتھ بات چیت میں شریک ہے۔

مزید پڑھیے: ایران اور امریکا میں پابندیوں کے خاتمے پر اختلاف برقرار، مارچ میں نئے مذاکرات کا امکان

امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد  جیرڈ کشنر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

دونوں ممالک نے اس ماہ دہائیوں پر محیط تعطل ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے۔

امریکا، دیگر مغربی ممالک اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ہتھیار بنانے کی طرف جا سکتا ہے تاہم تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیل کے بارے میں وسیع پیمانے پر خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، لیکن اس نے اس کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ تردید۔

خطے میں کشیدگی اور فوجی نقل و حرکت

صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ اگرچہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکا نے خطے میں لڑاکا طیارے، طیارہ بردار بحری بیڑے اور جنگی جہاز تعینات کیے ہیں تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب بندرگاہ سے روانہ ہو کر شمالی اسرائیل کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں اس کی آمد متوقع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق امریکا نے تقریباً ایک درجن ایف 22 لڑاکا طیارے بھی اسرائیل بھیجے ہیں اگرچہ پینٹاگون نے اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: مذاکرات ناکام ہونے پر امریکا ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناسکتا ہے، سی این این کا دعویٰ

ادھر بعض ممالک نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اپنے سفارتی عملے کے اہلخانہ اور غیر ضروری عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا ہے یا شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اندرونی و بیرونی دباؤ

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو سخت معاشی پابندیوں اور اندرونی بے چینی کے باعث اپنے طویل دورِ قیادت کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ تہران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایک منصفانہ اور تیز رفتار معاہدہ ممکن ہے، بشرطیکہ سفارتکاری کو ترجیح دی جائے۔ تاہم فریقین کے درمیان پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار اور دائرہ کار پر اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کا امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ شرکت کا اعلان

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp