جنگ کی تمنا ممنوع مگر مسلط کر دی جائے تو پیٹھ پھیرنا گناہ ہے، مفتی زاہد منصور

جمعرات 5 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف عالمِ دین مفتی زاہد منصور نے کہا دہشتگردوں کے خلاف ریاست نے بہت تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن شریعت کا حکم یہ ہے کہ جنگ کی تمنّا نہ کرو لیکن اگر مسلط کر دی جائے تو پھر پیٹھ پھیرنا گناہ ہے۔

وی نیوز کے پروگرام اِسلام دینِ امن میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی زاہد منصور نے کہا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں بے گناہوں کے قتل، زخمیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور ریاست کے اندر مسلح جدوجہد کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علما اور عوام سے اتحاد و ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

نوشکی واقعہ اور بے گناہوں کا قتل

مفتی زاہد منصور نے کہا کہ نوشکی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں جہاں سکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہوئے، وہیں مفتی امشد علی جیسے بے گناہ شہری بھی نشانہ بنے جو کرک سے تعلق رکھنے والے ایک امامِ مسجد تھے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے معصوم بچوں کو بھی شہید کیا، حالانکہ شریعت میں اس قسم کے اقدام کی کوئی اجازت نہیں۔

رمضان میں بھی دہشت گردی کے واقعات

مفتی زاہد منصور کے مطابق رمضان المبارک کے آغاز پر توقع یہ تھی کہ اس مقدس مہینے کے احترام میں اس طرح کی کارروائیوں کو روکا جائے گا، مگر اس کے برعکس رمضان شروع ہوتے ہی بنوں، بھکر، کوہاٹ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایمبولینسز پر حملہ کیا جائے۔ ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو روک کر زخمیوں سمیت جلا دیا گیا، جسے شریعت میں مُثلہ کہا جاتا ہے اور اس کی قطعی اجازت نہیں۔

جارحیت مسلط ہو تو دفاع فرض

افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں مفتی زاہد منصور نے کہا کہ شریعت کا اصول یہ ہے کہ جو تم سے قتال کریں، تم بھی ان سے قتال کرو مگر حد سے تجاوز نہ کرو۔

انہوں نے کہا کہ اسلام جنگ کی تمنا کرنے سے منع کرتا ہے، لیکن اگر جنگ مسلط کر دی جائے تو پھر پیٹھ دکھانا گناہ ہے۔ ایسے حالات میں اپنی دھرتی کی حفاظت کرنا اور شہدا کا بدلہ لینا فرض بن جاتا ہے۔

ریاستِ پاکستان کے اندر مسلح جدوجہد حرام

علماء کے کردار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان دستاویز پر 15 ہزار سے زائد پاکستانی علما کے ساتھ دیگر اسلامی ممالک کے جید علما کے بھی دستخط موجود ہیں۔

اس دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریاستِ پاکستان کے اندر مسلح جدوجہد حرام ہے اور کسی بھی قسم کی غیر ریاستی مسلح کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چند ماہ قبل کنونشن سینٹر اسلام آباد میں 5 ہزار علما کے اجتماع میں بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا تھا کہ علما فتنۂ خوارج کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ہندوستان کی پراکسی دہشت گردی اور علما کی ذمہ داری

مفتی زاہد منصور نے کہا کہ جب پاکستان میں ہندوستان کی پراکسی بن کر دہشت گردی کی وارداتیں کی جائیں تو علما کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔

ان کے مطابق علما کو عوام کو ساتھ لے کر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

تکفیر کے خاتمے کے لیے علما کی کوششیں

تکفیر کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس رجحان کے خاتمے کے لیے ملّی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے مہم پہلے ہی جاری ہے، جبکہ پیغامِ امن کمیٹی میں مختلف مسالک کے علما مشترکہ موقف اختیار کرتے ہیں۔

انہوں نے حالیہ ترلائی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سب سے پہلے اہلِ سنت کے علما اور عوام پہنچے۔

مفتی زاہد منصور کے مطابق مفتی تقی عثمانی سمیت متعدد جید علما اس بارے میں فتویٰ دے چکے ہیں کہ کسی دہشت گرد کو کسی شخص یا گروہ کی تکفیر کرنے کا حق حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اسلام جو دوسروں کو پیاز کی بو سے تکلیف پہنچانے سے بھی منع کرتا ہے، وہ کسی کی جان لینے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ اسلام کا واضح حکم ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp