جون 2025 سے دہشتگردی کا بڑھ جانا اتفاق نہیں طالبان اور بھارتی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے، ایمبیسیڈر ضمیر اکرم

جمعہ 6 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سابق ایمبیسیڈر ضمیر اکرم کا کہنا ہے کہ جون 2025 سے دہشتگردی کا بڑھ جانا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ بھارتی گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان افغانستان جنگ، ڈمی امیر خان متقی کی وی ٹو میں گفتگو

وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جون 2025 میں افغان طالبان نے کہنا شروع کیا کہ دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس سے پہلے وہ کہتے تھے کہ دہشتگردی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس وقت دہشتگردی بڑھی جو کوئی اتفاق نہیں بلکہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ جب تک طالبان دہشتگردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتے پاکستان کا ان سے مذاکرات کرنا بے معنی ہے اور پاکستان کو فوجی کاروائی جاری رکھنی چاہیے۔

مزید پڑھیے: افغانستان کے ساتھ جنگ کو جہاد سمجھتے ہیں، پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے: علامہ طاہر اشرفی

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم پاکستان کے ایک نہایت تجربہ کار سفارتکار رہ چکے ہیں۔ وہ واشنگٹن، ماسکو، نئی دہلی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اور سنہ 1989 میں سویت فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے حوالے سے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا بھی حصہ رہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ پاکستان کے جو دوست ممالک ہیں جیسا کہ روس اور چین وہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کیونکہ یہ ممالک بھی اسی دہشتگردی کی زد میں آ چکے ہیں جو افغانستان کے راستے سے ہمیں متاثر کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس میں بہت بڑا دہشتگرد حملہ ہوا تھا، چینی باشندے بھی دہشتگردی کی وارداتوں میں مارے گئے ہیں اور تاجکستان کے لوگ بھی مارے گئے ہیں اور یہ اچھی بات ہے کہ یہ لوگ طالبان حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں کیونکہ ان کو پتا ہے۔

مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ پاکستان نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں بلکہ پاکستان کا اِصرار ہے کہ افغانستان دہشتگردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور مثبت اقدامات کرے۔

جون 2025 سے افغان طالبان رجیم کے لہجے میں تبدیلی آئی

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے کہا کہ وہ افغان سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھر روس اور چین سے مذاکرات میں بھی وہ یہی بات کرتے تھے، ہمارے ساتھ بات چیت میں بھی یہی بات کرتے تھے لیکن جون 2025 میں ان کے لہجے میں تبدیلی آئی اور افغان وزیر خارجہ امیر خان مُتّقی نے کہنا شروع کیا کہ دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کے افغانستان میں بگرام ایئر بیس پر فضائی حملے

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم کا کہنا تھا کہ یہ وہی وقت تھا جب بھارت اور افغان طالبان کے تعلقات بڑھنے لگے تھے تو یہ دہشتگردی کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کام ہو رہا تھا۔

اس وقت طالبان سے مذاکرات کرنا بے معنی ہے

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ اس وقت طالبان سے بات کرنا بے معنی ہے جب تک وہ دہشتگردی کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 22 سے زائد دہشتگرد گروہ افغانستان میں بیٹھے ہیں اور ایسا نہیں کہ وہ اپنے طور پر کام کر رہے  ہیں بلکہ ان کو باقاعدہ مدد فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ان دہشتگرد گروہوں کو ماہانہ پیسے دیے جاتے ہیں جو کہ ظاہر ہے افغان طالبان کے ذرائع تو نہیں بلکہ ہندوستان سے یہ پیسے دیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابل قبول، خطرات کم کرنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے، فیلڈ مارشل

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے سوال اٹھایا کہ امریکیوں کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دوسرے دہشتگرد گروہوں کے پاس کیسے پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت نے ان لوگوں کو پیسے اسلحہ تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی تو ایسی صورت میں مذاکرات بالکل بے معنی ہو کے رہ جاتے ہیں۔

پاکستان کو فوجی کاروائی جاری رکھنی چاہیے

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ جب تک افغان طالبان، ٹی ٹی یی، بی ایل اے اور دیگر گروہوں کے پاس سرحد پار دہشتگردی کرنے کی صلاحیت ہے تو جہاں جہاں سے ہمیں اطلاعات ملیں وہاں وہاں ہمیں اِن کے خلاف فوجی کاروائیاں جاری رکھنی چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زبانی یقین دہانی کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ ایسے اقدامات ہونے چاہییں جو قابلِ تصدیق ہوں۔

مزید پڑھیے: پاکستان، افغان دہشتگرد قیادت اور اس کے ٹھکانوں کو فوراً تباہ کردے: میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے سازش کی جا رہی ہے۔

مئی 2025 کے بعد پاکستان کی مشرقی سرحدیں غیرمحفوظ ہوئیں

ایمبیسیڈر ضمیر اکرم نے کہا کہ مئی 2025 کی جنگ کے بعد پاکستان کی مشرقی سرحدیں غیر محفوظ ہوئیں اور اب مغرب میں افغانستان کے ساتھ سرحدیں غیر محفوظ ہوئیں اور مجھے اِس بات پر حیرت نہیں ہوگی کہ اس ساری سازش میں اسرائیل بھی شامل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: علما فتنہ الخوارج کے خلاف افواج پاکستان کے ساتھ، بلوچستان میں امن کے لیے انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے، قومی پیغام امن کمیٹی

انہوں نے کہا کہ گو کہ اس کے بارے میں ابھی کوئی بات ثبوت سے نہیں کی جا سکتی لیکن جس طرح سے وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مدد کرتا ہے اور بھارت کے ساتھ اس کا جس طرح سے قریبی تعلق ہے تو یہ محض کوئی اتفاق نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا