صدر ٹرمپ نے کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہی سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ اوکلاہوما کے سینیٹر مارک وین مولن آئندہ ماہ سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے، تاہم اس تعیناتی کی تصدیق کے لیے سینیٹ کی منظوری درکار ہوگی۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ کی بدولت امریکا سب سے بڑا تیل و گیس کا مالک ہے، امریکی ترجمان
نوم کو ایک نئے عہدے، ’خصوصی ایلچی برائے امریکا کے مغربی حصے کی سیکیورٹی منصوبہ بندی‘ پر تعینات کیا گیا ہے۔ صدر نے نوم کی خدمات کا شکریہ ادا کیا۔
نوم نے گزشتہ سال ہوم لینڈ سیکیورٹی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سخت امیگریشن ایجنڈے کو عملی شکل دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ امیگریشن ریڈز میں اکثر فیلڈ ایجنٹس کے ساتھ نظر آتی تھیں اور سخت پالیسیوں کی وکیل رہیں، جس سے انہوں نے سرحد کو مؤثر طور پر محدود کیا۔
تاہم نوم کا غیر روایتی انداز، جیسے قید خانہ کا دورہ اور اشتہاری مہم میں گھوڑے پر نمودار ہونا، تنازع کا باعث بنا۔ انہوں نے مہنگی گھڑی بھی پہنی، جس کی وجہ سے انہیں بعض حلقوں نے آئیس باربی کا خطاب دیا۔
صدر نے نوم کے حالیہ کانگریس میں بیان کے بعد سینیئر مشیر کے ساتھ ایک متنازع کال کی، اور دونوں کی تبدیلی کی کارروائی کی۔ نوم کی ہٹائی جانے کی وجوہات میں منیاپولس میں امیگریشن کارروائی کے دوران 2 شہریوں کی ہلاکت کے بعد انتظامیہ کی تنقید بھی شامل تھی۔
مارک وین مولن نوم کی جگہ آئیں گے، جو ٹرمپ کے اتحادی اور سخت امیگریشن موقف کے حامل ہیں۔ نوم کی تبدیلی صدر کے دوسرے دور کے پہلے بڑے کابینہ کی تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور اس سے ہوم لینڈ سیکیورٹی میں پالیسی کی نئی سمت کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔











