امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق فائلوں کا ایک اور حصہ جاری کر دیا ہے جس میں ایک خاتون کے انٹرویوز پر مبنی ایف بی آئی میموز شامل ہیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ پر الزامات لگائے گئے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جیفرے ایپسٹین کے سائنسدانوں سے کس نوعیت کے تعلقات تھے؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات
امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق دستاویزات کے ذخیرے میں سے وہ فائلیں جاری کر دی ہیں جو پہلے ڈیٹا بیس میں موجود نہیں تھیں۔ ان دستاویزات میں 2019 میں ایک خاتون کے ساتھ ایف بی آئی کے انٹرویوز کے خلاصے شامل ہیں جن میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین پر جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے تھے۔

جاری کی گئی تین میموز کے مطابق خاتون نے دعویٰ کیا کہ اسے 1980 کی دہائی میں بطور کم عمر لڑکی ایپسٹین نے ٹرمپ سے ملوایا تھا اور اس وقت اس کی عمر 13 سے 15 سال کے درمیان تھی۔ تاہم ان الزامات کی تاحال کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی اور ایف بی آئی کے مطابق ان انٹرویوز کے بعد اس خاتون سے مزید رابطہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بل گیٹس نے جیفری ایپسٹین سے تعلق کو ’بڑی غلطی‘ قرار دیدیا، فاؤنڈیشن عملے سے معذرت
وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کی کوئی قابلِ اعتبار شہادت موجود نہیں۔ ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق ایپسٹین فائلز کے اجرا کے بعد بھی ٹرمپ کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا۔
محکمہ انصاف نے وضاحت کی کہ یہ دستاویزات ابتدائی جائزے کے دوران غلطی سے روک لی گئی تھیں کیونکہ انہیں غلط طور پر نقل شدہ (duplicative) فائلوں کے طور پر کوڈ کر دیا گیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایپسٹین فائلز میں ٹرمپ کا نام ہزاروں بار مختلف ای میلز اور خط و کتابت میں بھی سامنے آتا ہے، تاہم اب تک ایپسٹین کیس کے متاثرین کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف کوئی باضابطہ فوجداری الزام عائد نہیں کیا گیا۔
یہ فائلیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز کے اجرا کے طریقہ کار پر وضاحت کے لیے طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔














