سعودی اور پاکستانی وزیرِ داخلہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، حملوں کی مذمت اور تعاون بڑھانے پر اتفاق

ہفتہ 7 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبد العزیز کو آج پاکستان کے وزیرِ داخلہ اور انسدادِ منشیات کے وزیر محسن رضا نقوی کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔

گفتگو کے دوران پاکستانی وزیرِ داخلہ نے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی جو مملکتِ سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہوے کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان مملکت کے امن و استحکام کو درپیش کسی بھی خطرے کے مقابلے میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاک سعودی یکجہتی کونسل کی ایران امریکا جنگ میں پاکستانی موقف کی مکمل حمایت

ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں موجودہ صورتحال اور تازہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان قریبی اور تاریخی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو آئندہ بھی وسعت دی جاتی رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘