پاک سعودی یکجہتی کونسل نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ تنازعے کے معاملے میں حکومت پاکستان کے موقف کی مکمل تائید اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
کونسل نے حرمین شریفین کے دفاع کو مقدس فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام علما اور پاکستانی قوم سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دفاع حرمین کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب ہماری ریڈ لائن، پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، اسحاق ڈار کا بیان سعودی اکاؤنٹس پر وائرل
پاک سعودی یکجہتی کونسل کا اجلاس مرکز خالد بن ولید میں مولانا فضل الرحمان خلیل کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں منظور شدہ قرارداد میں کہا گیا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ایران اور امریکا کے تنازع کے حوالے سے پیش کردہ موقف کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔

کونسل نے پاک سعودی دفاعی معاہدے کی بھی مکمل تائید کی اور ایران کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر بلا جواز حملوں پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔
پاک سعودی یکجہتی کونسل نے افغانستان کی طرف سے پاکستان پر حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی سالمیت اولین ترجیح ہے اور افواج پاکستان و سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو سراہا۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، تہران پر حملوں کی مذمت، کشیدگی روکنے پر زور
اجلاس میں دہشتگرد عناصر کے خاتمے کے لیے سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
کونسل نے حکومت پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور خطے کے دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ ایران اور امریکا تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنگ کے امکانات کو روکیں۔
اجلاس نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔














