برطانیہ نے بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین کے لیے انسانی امداد جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بات اتوار کو ڈھاکا میں سیکریٹریٹ میں ہونے والی ملاقات کے دوران کہی گئی، جس میں برطانوی ہائی کمشنر اور بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد شریک تھے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا
ملاقات کے دوران برطانوی ہائی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ لندن بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے میانمار کے بے گھر شہریوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے اور اس معاملے پر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہاکہ روہنگیا صورتحال کے مجموعی انتظام کے لیے چار اہم شعبے نہایت اہم ہیں جن میں کیمپوں میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا، مہاجرین کی مہارتوں کی ترقی، انہیں محفوظ طریقے سے میانمار واپس بھیجنا، اور کیمپوں کے اندر جرائم خصوصاً منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانا شامل ہے، اور حکومت ان تمام امور پر کام کر رہی ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر نے ان ترجیحات سے اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ روہنگیا بحران کا معاملہ باقاعدگی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آتا ہے تاکہ اس مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز رکھا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ روہنگیا مہاجرین کی وطن واپسی کی حمایت کرتا ہے، تاہم یہ عمل محفوظ، رضاکارانہ اور پائیدار ہونا چاہیے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان امن و امان، پولیس اصلاحات، انسداد دہشتگردی، خفیہ معلومات کے تبادلے اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے حوالے سے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر داخلہ نے برطانیہ کو بنگلہ دیش کا قریبی شراکت دار اور ترقیاتی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک ویزا فراڈ کی روک تھام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کی تیاری کر رہے ہیں۔
برطانوی فریق نے غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان جلد ایک آن لائن اجلاس کی تجویز بھی پیش کی۔
مزید پڑھیں: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا
بنگلہ دیش نے پولیس اصلاحات کے لیے برطانیہ کی مدد بھی طلب کی جبکہ دونوں فریقوں نے خفیہ معلومات کے تبادلے، مجرموں کی حوالگی اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
برطانوی ہائی کمشنر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کی متوقع ملاقات 16 اور 17 مارچ 2026 کو ویانا میں ہونے والے بین الاقوامی سمٹ کے موقع پر متوقع ہے۔














