بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع چترکوٹ میں ایک سرکاری پرائمری اسکول کی ہیڈ مسٹریس کو طالبات سے مساج کروانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد معطل کردیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت، ایم بی اے طالبہ کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ، ملزم گرفتار
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیڈ مسٹریس مدھو کماری رائے 28 فروری کی صبح کلاس روم میں آئیں اور مبینہ طور پر دورانِ تدریس فرش پر لیٹ گئیں، جس کے بعد انہوں نے طالبات سے مساج کرنے کو کہا۔
Headmistress Madhu Kumari of a Government Primary School is accused of making students massage her hands and feet inside the school. Children who come to learn and build their future are allegedly being treated like personal servants. pic.twitter.com/WPKrAqWUHB
— The Nalanda Index (@Nalanda_index) March 6, 2026
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسکول یونیفارم میں ملبوس طالبات ان کی کمر اور اطراف میں مساج کر رہی ہیں۔ کچھ طالبات میزوں پر بیٹھی ہوئی تھیں اور پاؤں سے ان کی کمر دبا رہی تھیں، جبکہ ایک اور منظر میں طالبات ہاتھوں سے مساج کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک طالبہ نے ابتدا میں کہاکہ اسے مساج کرنا نہیں آتا، جس پر ہیڈ مسٹریس نے مبینہ طور پر اسے اپنی کمر پر چڑھ کر دبانے کو کہا۔ بعد ازاں وہ الٹا لیٹ گئیں اور طالبہ نے پاؤں سے ان کی کمر دبائی۔
رپورٹس کے مطابق اسکول کے عملے کے ایک رکن نے یہ ویڈیو ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کردی، جس کے بعد یہ تیزی سے وائرل ہو گئی۔
معاملہ سامنے آنے پر حکام نے نوٹس لیتے ہوئے ہیڈ مسٹریس کو معطل کردیا، اور مزید تحقیقات کے احکامات جاری کردیے۔
مزید پڑھیں: ’بھارت سے وابستگی کا احساس نہیں ہوتا‘، بھارتی مسلمان طالبہ پھٹ پڑیں
دوسری جانب ہیڈ مسٹریس مدھو کماری رائے نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔














