بنگلہ دیش میں سیکیورٹی فورسز نے پیر کے روز چٹگرام کے ضلع سیتاکُنڈا کے پہاڑی علاقے جنگل سالم پور میں بڑے پیمانے پر مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق کارروائی میں فوج، ریپڈ ایکشن بٹالین (راب) اور پولیس کے تقریباً 4 ہزار اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
ضلعی پولیس حکام کے مطابق آپریشن صبح سویرے شروع کیا گیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کر دیں تاکہ کسی بھی مشتبہ شخص کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے باعث توانائی بحران، بنگلہ دیش کا جامعات کو چھٹی دینے کا فیصلہ
حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے جاری رہنے کے باعث مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
یہ کارروائی اس واقعے کے چند ہفتوں بعد کی جا رہی ہے جب جنوری میں اسی علاقے میں چھاپے کے دوران راب کے ایک افسر ہلاک ہو گئے تھے، اس واقعے نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی تھی اور مربوط سیکیورٹی آپریشن کے مطالبات سامنے آئے تھے۔
ذرائع کے مطابق قومی انتخابات کے شیڈول کے باعث یہ کارروائی مؤخر ہو گئی تھی، تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسے دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق فورسز نے متعدد ٹیموں میں تقسیم ہو کر مختلف سمتوں سے پہاڑی بستی میں داخل ہو کر کارروائی شروع کی ہے۔ اس بار ماضی میں پیش آنے والی مسلح مزاحمت کے پیش نظر نئی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔
جنوری کے واقعے میں راب کے سب اسسٹنٹ ڈائریکٹر مطلب حسین بھویان اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب مشتبہ عسکریت پسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر تیز دھار ہتھیاروں اور لاٹھیوں سے حملہ کر دیا تھا۔
اس حملے میں راب کے کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے جبکہ چند اہلکاروں کو مختصر وقت کے لیے اغوا کر لیا گیا تھا جنہیں بعد میں فوج اور پولیس نے بازیاب کرا لیا، بعد ازاں حکام نے 29 نامزد ملزمان سمیت 200 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیش میں تیل بحران، مختلف گاڑیوں کے لیے روزانہ فیول کوٹہ مقرر
چٹگرام شہر کے قریب واقع جنگل سالم پور ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے جو ہزاروں ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کئی دہائیوں کے دوران پہاڑ کاٹ کر غیر قانونی بستیاں قائم ہو گئی ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق یہ علاقہ زمینوں پر قبضے، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث مسلح گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں کم از کم 2 مسلح گروہ مقامی رہنماؤں محمد یاسین اور رکن الدین کی قیادت میں سرگرم ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں یو پی ڈی ایف کا رکن فائرنگ سے ہلاک، مسلح گروہوں کے درمیان الزام تراشی
تفتیش کاروں کے مطابق مقامی سطح پر بدلتی سیاسی وابستگیوں کے باعث علاقے میں ریاستی کنٹرول قائم کرنا مشکل رہا ہے، تاہم سیاسی جماعتوں نے مسلح گروہوں سے روابط کی تردید کی ہے۔
حکام کے مطابق جاری آپریشن کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ بحال کرنا، غیر قانونی ڈھانچوں کا خاتمہ اور بندرگاہی شہر چٹگرام کے قریب واقع اس حساس علاقے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔














