کیا اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو ملنے والے سینکڑوں لیٹر مفت پیٹرول میں کمی ہوگی؟

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرق وسطی میں کشیدگی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اعلیٰ سرکاری افسران، وزرا اور دیگر حکومتی عہدیداروں کو ملنے والے سینکڑوں لیٹر مفت پیٹرول میں کمی کی جائے گی یا نہیں۔ تاہم اس حوالے سے تاحال حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

دستیاب سرکاری تفصیلات کے مطابق مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کو سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے ماہانہ بڑی مقدار میں پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔

صدرِ مملکت کو صدارتی ہاؤس میں  سرکاری گاڑیاں اور لامحدود مفت پیٹرول کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس میں رہائش، بم پروف گاڑی، سیکیورٹی اسکواڈ اور لامحدود سرکاری پیٹرول کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

اسی طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کو بھی سرکاری گاڑیوں کے لیے ماہانہ تقریباً 600 لیٹر پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔

پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس کی سیکیورٹی پر مامور چار گاڑیوں کو قومی خزانے سے اپریل 2022 سے فروری 2023 تک کے 11 ماہ کے دوران تقریباً 38 لاکھ روپے مالیت کا پیٹرول فراہم کیا گیا۔

مزید پڑھیے: ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد آلودہ ہوا پاکستان پہنچ سکتی ہے، محکمہ موسمیات کا انتباہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعینات گریڈ 22 کے سرکاری افسران کو بھی سرکاری گاڑیوں کے لیے تقریباً 290 لیٹر ماہانہ پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک کے گورنر کو دو سرکاری گاڑیاں، ڈرائیور اور تقریباً 1200 لیٹر ماہانہ پیٹرول کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

وفاقی وزرا کے معاملے میں پیٹرول کے استعمال کی کوئی ایک مقررہ حد نہیں ہوتی بلکہ یہ متعلقہ وزارتوں کے بجٹ یا صوابدیدی فنڈز سے منسلک ہو سکتا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق فی الحال حکومت کی سطح پر ان مراعات میں کمی یا سرکاری افسران اور حکومتی عہدیداروں کو ملنے والے ماہانہ مفت پیٹرول میں کٹوتی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم سرکاری اخراجات میں کمی کے تناظر میں یہ معاملہ وقتاً فوقتاً زیر بحث آتا رہتا ہے اور دیکھنا یہ ہوگا کہ مستقبل میں اس حوالے سے کیا فیصلہ سامنے آتا ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس قسم کے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ جون 2022 میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت کے قیام کے بعد صرف ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 60 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کے ارکان اور سرکاری افسران کو ملنے والے مفت پیٹرول میں 40 فیصد کمی کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، ریٹیل قیمت 350 روپے فی کلو تک پہنچ گئی

اسی دوران سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی وزراء اور سرکاری افسران کو ملنے والے فیول کوٹے میں 40 فیصد کمی کا اعلان کیا تھا، جبکہ خیبرپختونخوا کے سرکاری اداروں میں بھی پیٹرول کے استعمال کی مد میں تقریباً 35 فیصد کٹوتی کی گئی تھی۔

موجودہ صورتحال میں اگرچہ سرکاری مراعات میں کمی کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ سامنے نہیں آیا تاہم ماہرین کے مطابق بڑھتے مالی دباؤ کے پیش نظر مستقبل میں اس معاملے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی ایندھن کی بچت کے لیے مختلف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور تمام صوبائی وزرا کو دستیاب مفت پیٹرول بند کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری افسران کی گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد فوری کمی کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جنگِ ایران کے باعث خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں

صوبائی وزرا اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جبکہ ناگزیر سیکورٹی کے لئے صرف ایک گاڑی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار