وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں، اسی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اگر حالات اسی طرح خراب رہے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ کے ارکان کی 2 ماہ کی تنخواہ قومی خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے تاہم حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اس کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔
صاحب ثروت افراد آگے بڑھ کر ضرورت مندوں کی مدد کریں
وزیراعظم نے کہا کہ جب قوموں پر مشکل وقت آتا ہے تو صاحبِ ثروت افراد آگے بڑھ کر ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اشرافیہ آگے آئے اور ذمہ دار معاشرے کے صاحبِ حیثیت طبقے کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے بتایا کہ آج ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں جن کے تحت سرکاری گاڑیوں کے فیول میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی، تاہم ایمبولینس اور عوامی استعمال کی گاڑیاں اس سے مستثنیٰ ہوں گی۔ آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق آئندہ دو ماہ تک کابینہ کے ارکان، وفاقی وزرا، مشیر اور معاونینِ خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے ایسے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی جو عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔
سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی
انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کے تنخواہوں کے علاوہ دیگر اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جا رہی ہے جبکہ سرکاری اداروں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی و صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور سرکاری افسران کے بیرونِ ملک دوروں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے ان دوروں کے جو ملکی مفاد کے لیے ناگزیر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن اجلاسوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے۔
اسی طرح سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار اور کانفرنسیں ہوٹلوں کے بجائے سرکاری مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔
ہفتے میں صرف 4 دن کام کا اعلان
وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ انتہائی ضروری سروسز کے علاوہ 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا اور ہفتے میں صرف چار دن دفاتر کھلیں گے، تاہم اس فیصلے کا اطلاق بینکوں، صنعت اور زراعت کے شعبوں پر نہیں ہو گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ تمام اسکولوں کو رواں ہفتے کے اختتام سے دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جا رہی ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی جائے ورنہ سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب کے تعلیمی ادارے 31 مارچ تک بند، صوبائی وزرا و افسران کو سرکاری فیول نہیں ملے گا
وزیراعظم نے کہاکہ آج دنیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان کو ایک بار پھر اتحاد، اخوت، قومی یکجہتی اور احساسِ ذمہ داری کی اشد ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور ایران پر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ممالک پر ہونے والے حملوں کی بھی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کی جاتی ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک پر حملوں سے خطے کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور پاکستان اس آزمائش کے وقت میں ان ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ پاکستان ان ممالک کی سلامتی کو اپنی خود کی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔














