سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں عدالتی انفراسٹرکچر، وکلا برادری کے لیے سہولیات اور آئینی عدالت کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گودام سے ضبط شدہ سگریٹ چوری کیس: چیئرمین ایف بی آر کو قائمہ کمیٹی نے طلب کر لیا
اجلاس کے آغاز میں کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب) مصروفیات کے باعث اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔
ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کمیٹی کو چیئرمین نیب کی عدم دستیابی سے آگاہ کیا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف بھی اجلاس میں شریک نہ ہو سکے جس کے باعث نیب سے متعلق ایجنڈا آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔
کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت بجٹ تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ سیکریٹری وزارت قانون و انصاف نے کمیٹی کو جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہائی کورٹ بار کے نئے کمپلیکس کی تعمیر جاری ہے جس میں وکلاء برادری کی پیشہ ورانہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے نئے بار کمپلیکس میں دستیاب سہولیات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کا کیفے ٹیریا بہت اچھے انداز میں تعمیر کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے وفاقی آئینی عدالت کے بنیادی ڈھانچے اور سہولیات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں تاحال ضروری سہولیات جن میں کینٹین، بار روم اور مناسب واش رومز شامل ہیں موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی اداروں کی مؤثر کارکردگی کے لیے صرف عمارتوں کی خوبصورتی نہیں بلکہ عملی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ محض خوبصورت عمارتیں تعمیر کرنے یا محدود سہولیات جیسے ایک لفٹ نصب کرنے کے بجائے مکمل اور مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
مزید پڑھیں: پیپر ملبری کی کٹائی یا ماحول کا تحفظ؟ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بحث گرم
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت میں دیکھ بھال کے مسائل کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نئی عمارت میں نصب دو لفٹس میں سے ایک اس وقت خراب ہے۔ اس پر سیکریٹری وزارت قانون و انصاف نے بتایا کہ عمارت کی تکمیل کے بعد اس کا انتظامی کنٹرول متعلقہ عدالت کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے فیڈرل سروس ٹربیونل میں خاص طور پر باتھ رومز کی خستہ حالت کی طرف توجہ دلائی۔
سیکریٹری وزارت قانون و انصاف نے یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملہ فیڈرل سروس ٹربیونل کے رجسٹرار کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کی جانب سے قوانین کے ریکارڈ خصوصاً پاکستان کوڈ اور ڈی آر آئی ایس ویب سائٹ جو مستند اور تازہ ترین قوانین اور ترامیم کا اہم ذخیرہ ہیں کو محفوظ بنانے اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات کو بھی سراہا۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون متفقہ طور پر منظور کرلیا
اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سینیٹر محمد عبدالقادر نے بھی شرکت کی۔














